صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 219
صحيح البخاري - جلد 4 ۲۱۹ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء قس بن ساعدہ نے بھی صعب ہی کو ذوالقرنین قرار دیا ہے۔اعشی بن ثعلبہ نے اپنے شعر میں اس کا مقام مشرقی سمت میں بتایا ہے: وَالصَّعْبُ ذُو الْقَرْنَيْنِ أَمْسَى ثَاوِيًا بِالْحِنُو فِي جَدَثٍ هُنَاكَ مُقِيمٌ جنو کے معنی ہیں مشرقی سمت۔یعنی صعب ذوالقرنین نے مشرق میں موجود ایک قبر کو (اپنا) ٹھکانا بنایا ہے۔حضرت نعمان بن بشیر انصاری صحابی ابن صحابی شاعر کا قول بھی دلالت کرتا ہے کہ ذوالقرنین اور حاتم طائی دونوں عربوں میں سے تھے اور فخریہ کہتے ہیں کہ پھر کون ہے جو ہم سے عداوت رکھے۔وَمَنْ ذَا يُعَادِينَا مِنَ النَّاسِ مَعْشَرٌ كِرَامٌ وَذُو الْقَرْنَيْنِ مِنَّا وَحاتِمُ سفیان ثوری سے مروی ہے کہ چار بادشاہوں نے تمام دنیا پر حکومت کی۔دو مومن تھے اور دو کافر ( ذوالقرنین وسلیمان بن داؤد اور نمرود و بخت نصر ) مجاہد کا بھی اسی کے ہم معنی قول مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۶۲-۴۶۵) اور باوجود ان فخر یہ اشعار یہ امر یقینی ہے کہ ان میں سے وہی ذوالقرنین مقصود ہے جو در حقیقت محولہ بالا آیات کا موضوع ہے۔وجہ یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک لقب ہے جو متعدد بادشاہوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔الْقَرْن کے معنی علاوہ صدی کے سینگ، طاقت وقوت وسلطان ہیں۔اسکندر اعظم این فیلبوس مقدونی بوجہ تسخیر روم و ایران اس لقب سے ملقب کیا گیا ہے۔یعنی دو سلطنتوں والا اور فتنہ یا جوج و ماجوج کا مقابلہ کرنے والا ذوالقرنین اور دوصدیوں کو پانے والا شخص موعود بھی مشرق و مغرب میں فتنہ یا جوج و ماجوج کا قلع قمع کرنے اور اپنی روحانی طاقت و قدرت کی وجہ سے تشبیہہا لقب مذکور سے ملقب ہے۔شرح بابے کے تعلق میں دو سوال قابل غور ہیں۔اول یہ کہ ذوالقرنین اول کون ہے جس کا سورہ کہف میں ذکر وارد ہوا ہے؟ اور دوسرا یہ کہ امام بخاری نے عنوانِ باب میں ان آیات کا حوالہ دینے کے بعد اس ذوالقرنین کی شخصیت کی نسبت بظاہر کوئی روایت نقل نہیں کی جس سے معلوم ہو سکے کہ اوصاف مذکورہ کا مصداق کون ہے جو مشرق و مغرب پر حکومت کرنے کی وجہ سے ذوالقرنین کہلایا؟ اور پھر اس کا یہ لقب حاتم طائی کی طرح ضرب المثل بنا اور متعدد بادشاہوں یا قوموں نے اسے اپنا نا چاہا۔بعض مسلمان مؤرخین اور راویوں نے ذوالقرنِ اوّل کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہم عصر بتایا ہے اور یہاں تک لکھا ہے کہ اس سے ان کی ملاقات بیت اللہ میں ہوئی اور اس نے دعا کے لئے درخواست کی۔اور ابن ہشام نے اپنی کتاب انتیجان میں ذکر کیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذوالقرنین سے کسی متنازعہ فیہ امر کا فیصلہ چاہا اور اس نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔علامہ فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں یہاں تک لکھا ہے کہ ذوالقرنین اول نہ صرف بادشاہ بلکہ نبی بھی تھے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۶۲) غرض مذکورہ بالا دو سوال اس شرح میں اہم ہیں اور ان کا جواب دینا ضروری ہے اور تفصیل چاہتا ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ لمسیح الثانی رضی اللہ عہ نے تفسیر کبیر میں ذوالقر نین اؤل کی شخصیت کی