صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 218
صحيح البخاري - جلد 4 ۲۱۸ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعَرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جنتوں میں تم آدھے ہو گے۔ہم نے پھر نعرہ تکبیر جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ أَوْ كَشَعَرَةٍ بَيْضَاءَ لگایا۔تب آپ نے فرمایا: تم لوگوں میں ایسے ہی ہو جیسے سیاہ بال سفید بیل کے جسم میں یا فرمایا: جیسے سفید فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ۔اطرافه: ٤٧٤١، ٦٥٣٠ ٧٤٨٣۔بال سیاہ بیل کے جسم میں۔تشریح : قِصَّةُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ : اس باب کی ترتیب کے بارے میں بعض کا تہوں سےایک غلطی ہوئی ہے جو امام ابن حجر نے دور کی ہے اور ترتیب میں اسے عاد محمود کے بعد رکھا ہے۔(دیکھئے فتح الباری شرح بابا جزء ۲ صفحہ ۴۶۰ ) بعض کا خیال تھا کہ ذوالقرنین سے مراد اسکندر یونانی ہے جس کا زمانہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قریب ہے۔حالانکہ حضرت عیسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کے درمیان دو ہزار سال کے قریب کا عرصہ ہے اور ذوالقرنین کا تعلق فتنہ یا جوج ماجوج کے انسداد سے ہے اور یہ تو میں یافث بن نوح کی نسل سے ہیں اور جس زمانہ سے متعلق ان کا ذکر وارد ہوا ہے وہ زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بعد کا ہے۔یعنی سکندر اعظم مقدونی کا زمانہ۔امام ابن حجر نے تحقیق کر کے اپنی شرح میں صحیح ترتیب ابواب قائم کی ہے اور انہی کی ترتیب اس شرح میں ملحوظ رکھی گئی ہے۔اسی تعلق میں امام موصوف نے بدلائل لکھا ہے کہ اسکندر مقدونی چند ایک وجوہ مماثلت کی بناء پر ذوالقرنین کے لقب سے ملقب کیا گیا تھا۔جن میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کی فتوحات کا دائرہ اپنی وسعت میں روم و ایران کی حدود تک ممتد تھا اور اس کی سلطنت میں وہ ممالک شامل ہو گئے تھے جنہیں ذوالقرنین اول نے تسخیر کیا تھا۔ورنہ ذوالقرنین اول عربی نژاد بادشاہ ہے اور اس کی تعریف میں عربی شعراء اقدمین نے اکثر اس کا ذکر فخر سے کیا ہے۔اعشی بن ثعلبہ، تبع حمیری، امرؤ القیس ، اوس بن حجر، طرفہ بن عبد اور قس بن ساعدہ وغیرہ میں سے بعض کے حوالے نقل کئے ہیں۔ایک حارثی شاعر کا تو یہاں تک دعوی ہے کہ ذوالقرنین اہل یمن میں سے تھا۔سَمُّوا لَنَا وَاحِدًا مِنْكُمْ فَتَعْرِفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لاسم الْمَلِكِ مُحْتَمَا كَالتُبَعِيْنَ وَذِي الْقَرْنَيْنِ يُقْبَلُهُ أهْلُ الْحِجَى وَاَحَقُّ الْقَوْلِ مَا قُبلا وہ مصریوں کو مخاطب کرتا اور کہتا ہے کہ اپنے میں سے کسی ایک بادشاہ کا بھی تو نام لو جو شاہان تابعہ اور ذوالقرنین جیسا ہو۔تا ہم جانیں کہ ایام جاہلیت میں عقلمند تم میں بھی ہوئے ہیں اور اسے قبول کیا جائے اور حق بات اس قابل ہے کہ وہ قبول کی جائے۔اعشی بن ثعلبہ نے صعب کو ذوالقرنین سے ملقب کیا ہے اور ربیع بن ضبیع کے ایک شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ صعب ذی القرنین کی سلطنت دو ہزار سال آباد و شاداب رہی اور اس کے بعد وہ تباہ ہوئی۔کہتا ہے: وَالصَّعْبُ ذُو الْقَرْنَيْنِ عُمَرَ مُلكُهُ الْفَيْنِ أَمْسَى بَعْدَ ذَاكَ رَمِيمًا