صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 217
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۱۷ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء ٣٣٤٨: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ۳۳۴۸: اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنَا ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ روایت کی کہ ابوصالح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو سعید رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُوْلُ اللَّهُ تَعَالَی یا فرمایا: اللہ تعالی فرمائے گا: اے آدم! ائے گا: اے آدم! وہ کہیں گے: آدَمُ فَيَقُوْلُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ جناب میں حاضر ہوں۔ تیرے احکام کی بجا آوری فِي يَدَيْكَ فَيَقُوْلُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ کے لئے تیار ہوں اور ساری کی ساری بھلائی تیرے قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفِ ہی ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دوزخ میں بھیجے ہوؤں کو نکالو۔ آدم کہیں گے: دوزخ میں بھیجے تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِيْنَ فَعِنْدَهُ ہوؤں میں سے کتنے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار پندارم يَشِيبُ الصَّغِيْرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ دوزخیوں میں سے نوسونٹاویں۔ اس وقت خوف سے حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَی بچہ بوڑھا ہو جائے گا اور ہر حمل والی اپنے حمل گرا وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللهِ دے گی اور لوگوں کو تو مدہوش دیکھے گا۔ حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے۔ بلکہ اللہ کا عذاب ہی سخت ہوتا شَدِيدٌ۔ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِكَ ہے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ ! وہ ایک کون ہوگا ؟ الْوَاحِدُ قَالَ أَبْشِرُوْا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلًا آپ نے فرمایا: تم خوش رہو۔ کیونکہ تم میں سے ایک وَمِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفَ ثُمَّ قَالَ آدمی ہوگا اور یا جوج اور ماجوج میں سے ایک ہزار ۔ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ اس کے بعد پھر آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے تَكُوْنُوْا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا فَقَالَ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں امید رکھتا ہوں کہ جنتیوں میں تم چوتھائی ہو گے۔ ہم نے یہ سن کر أَرْجُو أَنْ تَكُوْنُوْا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ نعرہ تکبیر لگایا۔ آپ نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں فَكَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَكُوْنُوْا نِصْفَ کر جنتیوں میں تم تہائی ہو گے۔ ہم نے یہ سن کر پھر أَهْلِ الْجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ فِي نعرہ تکبیر لگایا۔ آپ نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ