صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 215
صحيح البخاری جلد 4 ۲۱۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوْهُ يَعْلُوْهُ، (جب دیوار بن گئی ) تو یا جوج ماجوج اس پر نہ چڑھ اسْطَاعَ اسْتَفْعَلَ مِنْ طُعْتُ لَهُ فَلِذَلِكَ سے۔اِسْطَاعَ باب اسْتَفْعَلَ ہے۔یہ طُعْتُ سے فُتِحَ أَسْطَاعَ يَسْطِيْعُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مشتق ہے۔اسی لئے حرف طاء مفتوح ہے اور کہتے اسْتَطَاعَ يَسْتَطِيْعُ، وَمَا اسْتَطَاعُوا ہیں: إِسْطَاعَ يَسْطِيْعُ اور بعض نے اِسْتَطَاعَ لَهُ نَقَبَّاهِ قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ يَسْتَطِيعُ بھی کہا ہے۔( یعنی دونوں صیغے درست ہیں) یا جوج و ماجوج اس میں شگاف نہ کر سکے۔ذوالقرنین نے کہا: یہ میرے رب کی رحمت ہے۔پھر جب میرے رَّبِّي ۚ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَاء (الكهف: ۹۸-۹۹) رب کا وعدہ ( یعنی موعود وقت) آئے گا تو وہ اسے زمین أَلْزَقَهُ بِالْأَرْضِ وَنَاقَةٌ دَكَّاءُ لَا سَنَام سے پیوست کر دے گا۔( کہتے ہیں: ) نَاقَةٌ دَكَّاءُ لَهَا وَالدَّكْدَاكُ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلُهُ حَتَّى ایسی اونٹنی جس کا کو ہان نہ ہو اور دشداک ایسی صَلُبَ مِنَ الْأَرْضِ} وَتَلَبَّدَ۔ہموار زمین کو کہتے ہیں جو سنگلاخ اور تہ بہ تہ ہو۔وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّاهُ اور میرے رب کا وعدہ اٹل ہے۔اور ہم اس دن وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَ يَمُوجُ فِی انہیں چھوڑ دیں گے کہ وہ ایک دوسرے سے موجوں کی بَعْضٍ (الكهف: ۹۹-۱۰۰) حَتَّى إِذَا طرح پیٹیں گے۔یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے تیزی مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الأنبياء: ۹۷) کے ساتھ حملہ آور ہوں گے۔(اور ) قتادہ نے کہا: قَالَ قَتَادَةُ حَدَبٌ أَكَمَةٌ۔حَدَب کے معنی ہیں ٹیلہ۔قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (یین) کر ) ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: رَأَيْتُ السَّدَّ مِثْلَ الْبُرْدِ الْمُحَبَّرِ میں نے اس دیوار کو دیکھا ہے۔وہ چوخانہ چادر کی قَالَ قَدْ رَأَيْتَهُ۔طرح تھی۔آپ نے فرمایا تم اسے دیکھ چکے ہو۔حمدیہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۴۶)