صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 214
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۱۴۴ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء بَاب : قِصَّةُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوْجَ یا جوج اور ماجوج کا بیان وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى قَالُوا يُذَا الْقَرْنَيْنِ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: (ذوالقرنین کے زمانہ کے ) إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ لوگوں نے (ان کو) کہا: اے ذوالقرنین ! یا جوج اور في الْأَرْضِ (الكهف : ٩٥) ماجوج لوگ ملک میں بہت فساد مچا رہے ہیں۔ وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: (اے ہمارے رسول ! ) تجھ سے عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ إِلَى قَوْلِهِ ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ تو سَبَبًا (الكهف: ٨٤-٨٦) سَبَبًا طَرِيقًا ، کہ کہ میں اس کا واقعہ تم کو بتاتا ہوں۔ ہم ۔ ا ہوں۔ ہم نے اس کو زمین میں حکومت دی تھی اور ہر ضروری سامان اس کو إِلَى قَوْلِهِ أَتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ عطا کیا تھا۔ تب وہ ایک راستہ پر چل پڑا ۔۔۔۔ سببًا وَاحِدُهَا زُبْرَةً وَهِيَ الْقِطَعُ حَتَّى إِذَا کے معنی ہیں راستہ۔ آخر میں آتا ہے: { مجھے لو ہے سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ (الكهف : (۹۷) کے ٹکڑے لا دو۔} زُبَر کا مفرد ہے زُبُرَةً یعنی ٹکڑا۔ يُقَالُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْجَبَلَيْنِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ یعنی جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان جگہ برابر کر دی۔ وَ السَّدَّيْنِ (الكهف: ٩٤) الْجَبَلَيْنِ، (الصَّدَفَین کے معنی) حضرت ابن عباس سے پہاڑ خَرْجًا (الكهف: ٩٥) أَجْرًا۔ کے روایت کئے جاتے ہیں اور السدین کے معنی بھی دو پہاڑ ہیں ۔ خَرُجًا کے معنی ہیں اجر ، مزدوری ۔ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ ( پھر آتا ہے ) ذوالقرنین نے کہا: اس پر آگ دھونکو۔ نَارًا قَالَ أَتُونِى أَفْرِغْ عَلَيْهِ یہاں تک کہ جب ( لوہا پگھلا کر ) آگ کر دیا، اس قطران (الكهف : ۹۷) أَصْبُبْ عَلَيْهِ نے کہا : لاؤ میں سیسہ پگھلا کر اس پر ڈال دوں ۔ قطر رَصَاصًا وَيُقَالُ الْحَدِيدُ وَيُقَالُ الصُّفْرُ کے معنی لوہا بھی بتائے جاتے ہیں اور پیتل بھی اور حضرت ابن عباس نے اس کا معنی تانبا بتایا ہے ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ النُّحَاسُ۔