صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 214 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 214

صحيح البخاری جلد 4 ** ۲۱۴ بَابِ ۷: قِصَّةُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ یا جوج اور ماجوج کا بیان ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى قَالُوا ذَا الْقَرْنَيْنِ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: (ذوالقرنین کے زمانہ کے) اِن يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ لوگوں نے (ان کو) کہا: اے ذوالقرنین! یا جوج اور فِي الْأَرْضِ (الكهف: ٩٥) ماجوج لوگ ملک میں بہت فساد مچارہے ہیں۔وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَيَسْتَلُونَكَ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: (اے ہمارے رسول ! ) تجھ سے عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ إِلَى قَوْلِهِ ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔تو سَبَبًا (الكهف: ٨٤-٨٦) سَبَبًا طَرِيقًا، کہہ کہ میں اس کا واقعہ تم کو بتا تا ہوں۔ہم نے اس کو زمین میں حکومت دی تھی اور ہر ضروری سامان اس کو ط عطا کیا تھا۔تب وہ ایک راستہ پر چل پڑا۔سببًا إِلَى قَوْلِهِ اتُونِى زُبَرَ الْحَدِيدِ وَاحِدُهَا زُبْرَةٌ وَهِيَ الْقِطَعُ حَتَّى إِذَا کے معنی ہیں راستہ۔آخر میں آتا ہے: { مجھے لوہے سَاوِي بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ (الكهف: ۹۷) کے ٹکڑے لا دو۔} زُبو کا مفرد ہے زُبُرَةٌ یعنی ٹکڑا۔يُقَالُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ الْجَبَلَيْنِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ یعنی جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان جگہ برابر کر دی۔وَ السَّدَّيْنِ (الكهف: ٩٤) الْجَبَلَيْنِ، (الصَّدَقَين کے معنی ) حضرت ابن عباس سے پہاڑ خَرْجًا (الكهف: ٩٥) أَجْرًا۔کے روایت کئے جاتے ہیں اور السدین کے معنی بھی دو پہاڑ ہیں۔خوجا کے معنی ہیں اجر ، مزدوری۔قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ (پھر آتا ہے ) ذوالقرنین نے کہا: اس پر آگ دھونکو۔نَارًا قَالَ اتُونِی اُفْرِغْ عَلَيْهِ یہاں تک کہ جب ( لوہا پگھلا کر ) آگ کر دیا، اس قطراة (الكهف : ۹۷) أَصْبُبْ عَلَيْهِ نے کہا: لاؤ میں سیسہ پگھلا کر اس پر ڈال دوں۔قطر رَصَاصًا وَيُقَالُ الْحَدِيْدُ وَيُقَالُ الصُّفْرُ کے معنی لوہا بھی بتائے جاتے ہیں اور پیتل بھی اور وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ التَّحَاسُ۔حضرت ابن عباس نے اس کا معنی تا نا بتایا ہے۔