صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 213
صحيح البخاري - جلد 4 ۲۱۳ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء اس کے علاوہ شمود کی بستی کی وجہ تسمیہ بیان کی گئی ہے کہ وہ پتھروں سے تعمیر شدہ تھی اور کعبہ بیت اللہ کا وہ حصہ جو سامان کی کمی سے بناء ابراہیم علیہ السلام میں سے تعمیر نہیں کیا جاسکا وہ حطیم کہلاتا ہے اور اسے بھی حجر کہتے ہیں۔گھوڑی بھی جنجر کہلاتی ہے کہ گویا وہ گود پالک ہے۔جنجر کے معنی ہیں ماں کی گود عقل کو حجر کہتے ہیں کہ وہ انسان کو بدی سے روکتی ہے اور حجرُ الْيَمَامَة علاقہ یمامہ کا مشہور شہر ہے جو حجاز اور یمن کے درمیان واقع ہے اور حساء کی فتحہ سے ہے۔امام ابن حجر کا خیال ہے کہ الفاظ کی یہ لغوی شرح باہمی مناسبت کی وجہ سے کی گئی ہے۔(فتح الباری جزء ۱ صفحہ ۴۵۸) ابھی تک میں نے نہیں دیکھا کہ امام بخاری نے الفاظ کی شرح بلاوجہ کی ہو۔قدیم مشرک اقوام کے مرکزی شہر نے جہاں بھی اہمیت اختیار کی وہ مقدس شہر قرار دے دیا گیا اور غیر قوم پر شہر میں داخلہ کی پابندی عائد کر دی گئی۔تاریخ ادیان قدیمہ کا یہ حصہ الگ شرح وبسط کا محتاج ہے۔امام موصوف مذکورہ بالا الفاظ کی شرح سے اصحاب الحجر کے شہر کی ممتاز حیثیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔اس علاقہ کے عربی گھوڑے بھی اب تک مشہور ہیں اور میدانی جنگوں میں ان سے کام لیا جاتا رہا ہے اور جیسا کہ ہر ممتاز قوم اپنے آپ کو عقل مند اور دوسروں کو کم عقل سمجھتی ہے۔اصحاب الحجر یعنی قوم صالح بھی اپنے آپ کو دوسروں سے بڑھ کر عقل مند یقین کرتی تھی۔چنانچہ سورۃ المجر کے پہلے رکوع ہی میں بطور تمہید یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر امت نے اپنے رسول کی تکذیب میں اسے ان الفاظ سے مخاطب کیا: وَقَالُوا يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ۔۔۔۔۔۔وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُونَ ) (الحجر: ۷ تا ۱۲ ) اور انہوں نے (بڑے زور سے) کہا ( کہ ) اے وہ شخص جس پر یہ ذکر اتارا گیا ہے تو یقینا دیوانہ ہے۔۔۔اور جو رسول بھی ان کے پاس آتا تھا وہ اس کی ہنسی اڑاتے تھے۔غرض اس باب کی دونوں روایتوں سے مقصود ظاہر ہے کہ قومِ عاد محمود کے علاقوں میں بسنے والے قبائل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچے گی اور وہ حق قبول کریں گے اور اگر کسی قوم کی طرف سے فتنہ اُٹھے گا تو وہ کچلا جائے گا۔جیسا کہ بوقت فتنہ ارتداد آپ کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو اس کے پورا کرنے کی توفیق ملی اور اس کے بعد خوارج کا بھی قلع قمع ہوا، جن کا فتنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری ایام میں اُٹھا اور حضرت علی کی خلافت کے ایام میں فرد ہوا اور پھر جب اس نے سر نکالا تو خلافت عباسیہ کی خونریز جنگوں میں اندرونِ ملک سے وہ حرف غلط کی طرح مٹا ڈالا گیا اور بیرونِ ملک میں انہوں نے پناہ ڈھونڈی۔غرض اس طرح اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پوری فرمائی۔