صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 212 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 212

حيح البخاری جلد ٦ ۲۱۲ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء :A ے ناقہ حضرت صالح علیہ السلام کے لئے الگ چرا گاو وگھاٹ مقرر کئے جانے کے باوجود وہ ہلاک کر دی گئی اور اس طرح انہیں تبلیغ سے روک دیا گیا۔ان کے علاقے کا نام الحجر ہے جس کی وجہ تسمیہ بیان کی جاچکی ہے اور یہ علاقہ مدائن صالح بھی کہلاتا ہے۔مدینہ سے شام کو جائیں تو یہ قدیم راستہ پر مدینہ اور تبوک کے درمیان خلیج عقبہ کے محاذ پر واقع ہے۔وادی القری قدیم زمانہ میں اس علاقے ہی کا حصہ تھی اور اس میں غار اور پتھر کی قدیم عمارتیں ہیں جو خراب خستہ ہیں۔یہ عہد تو رات سے بہت پہلے کی اقوامِ عرب ہیں۔چنانچہ تو رات کے صحیفوں کا ان میں نام تک نہیں پایا جاتا۔9: اقوامِ صالح زلزلے سے تباہ ہوئی تھیں۔جسے لفظ صاعقہ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔(الاعراف: ۷۹) (هود: ۶۸) (حم السجده: (۱۴) ۱۰: سنت اللہ جو مشرک متمرد قوم سے گزری وہ ان دونوں قوموں سے بھی پیش آئی۔(النجم: ۵۱ تا ۵۵) عاد و ثمود سے متعلق مذکورہ بالا تفصیلات کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ بعض مستشرقین نے ان کے وجود سے انکار کیا ہے اور بعض نے شمود کو بنی اسرائیل میں سے قرار دیا ہے۔تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب المصلح الموعود رضی اللہ عنہ میں اس کی مفصل تغلیط کی گئی ہے جو قابل مطالعہ ہے۔(دیکھئے تفسیر کبیر جلد۳ صفحه ۲۰۲تا۲۰۵ نیز صفحه ۲۱۸ تا ۲۲۰) عہد نامہ قدیم کی کتابوں میں ان دونوں قوموں کا کوئی تذکرہ نہیں چہ جائیکہ ان میں سے کوئی اسرائیلی اقوام میں سے سمجھی جائے۔امام بخاری نے امام احمد بن حنبل اور تفسیر کبیر امام رازی کی ناقہ محمود سے متعلق روایات قبول نہیں کیں اور عاد و ثمود دونوں کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے قبل بتایا ہے جو ترتیب ابواب سے ظاہر ہے۔زیر باب حجر سے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ ثمود قوم کا علاقہ تھا اور حجر کے معنی حرام بتائے گئے ہیں۔جو ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔ان معنوں میں یہ لفظ سورۃ الانعام کی آیت وَقَالُوا هذهِ أَنْعَامٌ وَحَرُتَ حِجر۔۔۔(الأنعام: ۱۳۹ ) اور وہ اپنے گمان کی بناء پر کہتے ہیں کہ فلاں فلاں جانور اور کھیتی (ایسے ہیں کہ ان کا کھانا ) ممنوع ہے۔انہیں صرف وہی کھا سکتا ہے جس کے متعلق ہم کہیں ( کہ وہ کھائے۔) انہی معنوں میں سورۃ الفرقان کی آیت ۲۳ میں بھی مذکور ہے: يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَئِكَةَ لَا بُشْرَى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا ( کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ ) جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کو کوئی خوشخبری نہیں ملے گی اور (وہ گھبرا کر ) کہیں گے ( ہم سے پرے ) ہی رہو۔حجر محجور کے معنی حَرَامٌ مُحَرَّم بھی ابو عبیدہ ہی سے مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۵۷) نیز دیکھئے ; The Holy Quran With English Translation and Commentary Published under the auspices of Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmed Second Successor of the Promised Messiah, Sura Hud, verses 51-62, footnotes page 1084, 1092