صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 211
صحيح البخاری جلد 4 ۲۱۱ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ابواب کی ترتیب سے ظاہر ہے کہ شمود کے عروج کا زمانہ فراعنہ مصر سے بہت پہلے کا ہے۔جو مستشرقین انہیں بنی اسرائیل کی شاخ بتاتے ہیں، وہ محض قیاس سے کام لیتے ہیں۔ان کا زمانہ یقیناً حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کا ہے۔سورۃ المومن میں مذکور ہے کہ ایک مرد مومن اپنی قوم سے متعلق اس اندیشہ کا اظہار کرتا ہے کہ مبادا تمہارا بھی وہی انجام ہو جو تم سے پہلے قوم نوح و عاد و ثمود اور ان کے بعد دوسری قوموں کا ہوا ہے۔(المؤمن : ۳۲) اس آیت سے ظاہر ہے کہ محمود کو حضرت موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل میں سے قرار دینا ایک فاش غلطی ہے اور اس غلطی کی وجہ یہ ہے کہ بعض قبریں پائی گئی ہیں جن کے کتے بعض تو آرامی اور بعض قبطی زبان میں ہیں جو بہت بعد کے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے قبل ڈیڑھ دوصدیوں سے تجاوز نہیں کرتے اور یہ قبریں شمور قوم کی تھیں۔ان کا خط تحریر مسماری تھا۔شمود کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کا ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے ہزار دوم کے اوائل کی ترقی یافتہ اقوام میں سے تھی۔اگر آسوری حملہ آور کے زمانے میں قوم ثمود تباہ وخستہ حال ہو چکی تھی تو اس سے ظاہر ہے کہ ان کے عروج کا عرصہ ایک ہزار سال قبل مسیح کے قریب ہوگا اور قوم عاد اس سے قبل تھی جن کا زمانہ عروج اگر کم از کم ۵۰۰ سال فرض کیا جائے تو یہ حمورابی کے زمانہ سے قریب کا زمانہ معلوم ہوتا ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام سے ۷۲۸ تا ۶ ۶۸ سال قبل بتائے جاتے ہیں اور عاد و ثمود کا خط تحریر بھی مسماری ہے جو حمورابی کے زمانے میں رائج تھا۔عراق عرب اور شمالی و جنوبی عرب کی اقوام سب سامی النسل ہیں اور ان کا سلسلہ نسب حضرت نوح علیہ السلام سے ملتا ہے۔خلاصہ محولہ بالا آیات حسب ذیل ہے :- عاد و ثمود خالص عربی اقوام تھیں جو حضرت نوح علیہ السلام کے بعد زمین میں جانشین ہوئیں۔اول الذکر عاد اولی اور ثانی الذکر عاد ثانیہ کہلائی۔پہلی کا علاقہ جنوبی عرب میں تھا جو بربادی کے بعد احقاف کے نام سے موسوم ہے۔جیسا کہ اس کا جائے وقوع پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔:: حضرت نوح علیہ السلام کے بعد انہیں ( ہزار دوم میں ) عروج حاصل ہوا۔:A وہ معبود حقیقی کو بھول گئیں اور غیر اللہ کو پوجنا شروع کر دیا۔وہ انبیاء کی تکذیب اور ان کے انذار سے فائدہ نہ اٹھانے اور احکام الہی کو پس پشت ڈالنے اور بدکاری و ظلم کے ارتکاب سے تباہ ہوئیں۔عاد میں آخری نبی حضرت ہود علیہ السلام اور حمود میں حضرت صالح علیہ السلام مبعوث ہوئے۔جنہوں نے انہیں مؤثر الفاظ میں نصیحت کی اور انذار و تبلیغ سے ان پر کما حقہ حجت قائم کی۔مگر ان کے کان شنوا نہ ہوئے۔: سورۃ ھود آیت ۶۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم صنم پرستی ان کا مذہب تھا جس سے حضرت صالح نبی علیہ السلام نے روکا۔ان کے کھنڈرات سے بعض کتبے برآمد ہوئے ہیں جن پر ھبل ( ھو بعل ) منوت ( مناق) اور لات وغیرہ بھی تحریر میں پائے گئے نیلی تحریر کا زمانہ وہ ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام سے قبل اور ان سے قریب تھا۔