صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 210 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 210

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۱۰ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء اس آیت سے ظاہر ہے کہ ثمود کی قوم نے عاد کے بعد بہت بڑی قوت پکڑی اور بام عروج پر پہنچی۔ مجھے ان کے علاقہ سے گزرنے کا موقع ۱۹۱۴ میں ملا ہے جبکہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کالج میں ادیان قدیمہ کا استاد تھا۔ یہ علاقے میدانوں اور پہاڑی علاقہ پر مشتمل ہیں۔ بیت المقدس سے دمشق بذریعہ حجاز ریلوے جانے والا دور سے قوم ثمود کی پہاڑیوں اور میدانوں کو دیکھ سکتا ہے اور قدیم زمانہ میں قافلوں کا عام راستہ بھی انہی میدانوں سے گزرتا تھا جیسا کہ سورۃ الحجر میں ذکر ہے کہ اصحاب ایکہ اور شمور کھلے راستے پر واقع ہیں۔ (الحجر : ۸۰) اہل مدین اصحاب الایکہ کہلاتے تھے جو حضرت شعیب کی قوم تھی اور ثمود کی قوم کو اصحاب الحجر کہا گیا ہے بوجہ اس کے کہ فصیل جو شہر بنا تھی پتھروں سے بنی ہوئی تھی اور ان کی دوسری عمارتیں بھی پتھر ہی سے بنائی جاتی تھیں۔ ان کی بستیاں حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ تک ممتد تھیں۔ وادی القریٰ کا علاقہ شام کی جنوبی سرحد اور حجاز عرب کی شمالی حد ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحہ ۲۷۲) جغرافیائی منجد جدید کے عیسائی مؤلف کے نزدیک حجر نام کا شہر قدیم تیما کے جنوب میں وادی القری سے ایک دن کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ شہر شہود کا بتایا گیا ہے جو اب ؟ جواب برباد ہو چکا ہے۔ (ال) المنجد فى الأدب والعلوم الحجر ) دراصل حجر وسیع علاقہ کا نام تھا جہاں قوم ثمود کی حکومت تھی اور خلیج عقبہ تک ممتد تھی اور شمال مشرقی علاقوں پر بھی اس کا پر بھی اس کا تسلط تھا۔ مسعودی مورخ نے ثمود کی وادیوں میں سے ایک سر سبز وادی کا نام فج الناقة بھی بتایا ہے ۔ ) ہے۔ (مروج الذهب، ذکر ثمود وملوكها وصالح نبيها، جزءا جزء اول صفحه ۱۸۵) تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب المصلح الموعود رضی اللہ عنہ میں بیان کیا گیا ہے کہ قدیم یونانی مورخوں نے بھی اس وادی کا ذکر کیا ہے جس کا بگڑا ہوا نام بیڈا ناٹا Badanata ہے۔ (تفسیر کبیر، تفسیر سورة هود آیات ۶۲ تا ۲۹ ، جلد ۳ صفحه ۲۱۸) نیز دیکھئے انگریزی ترجمہ قرآن کریم ملک غلام فرید صاحب ایم اے کی ان وادیوں میں سے ایک وادی اب بھی حجر کے نام سے مشہور ہے جو سرسبز و شاداب ہے۔ جہاں پانی کے چشمے بکثرت ہیں۔ نمود کا زمانہ عاد کے بعد دو سو سال اندازہ کیا گیا ہے۔ جب ایک آسوری بادشاہ نے (۷۲۲ تا ۰۵ ۷ ق م ) حجاز عرب پر حملہ کیا تو مفتوحہ قبائل میں ایک قبیلہ ثمود نامی بھی تھا۔ ارض القرآن حصہ اول صفحہ ۱۵۹) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عاد کی تباہی کے بعد جنوبی عرب سے قبائل عاد میں سے ثمود قبیلہ حجاز کے شمال کی طرف رحلت کر گیا تھا۔ جہاں اس نے عاد ثانیہ کے نام سے حکومت کی بنیاد ڈالی۔ مودی کھنڈرات میں ایک شاہی حویلی کے آثار باقی ہیں، جو ایک پہاڑی کاٹ کر بنائی گئی تھی اور اس کے پاس ایک بڑا حوض بھی ہے۔ عرب کا مشہور مؤرخ مسعودی بھی لکھتا ہے : وَرَسُمُهُمْ بَاقِيَةٌ وَآثَارُهُمْ بَادِيَةٌ وَذَلِكَ فِي طَرِيقِ الْحَاجِّ لِمَنْ وَرَدَ مِنَ الشَّامِ (مروج الذهب للمسعودي، ذكر ثمود وملوكها وصالح نبيها، جزء اول صفحہ ۱۸۵) حاجیوں میں سے جو شام سے حجاز آئے ، اس کی راہ میں ان کے کھنڈرات اور آثار اب تک باقی ہیں۔ (The Holy Quran Translation & Short Commentary, Edited by: Malik Ghulam Farid Sahib, footnote Sura Hud, Verse 62)