صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 204 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 204

صحيح البخاری جلد ۲ سلام ۴۰ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء تشريح : وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا : قوم عاد ے متعلق سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں سے بعض الفاظ کی en شرح دی گئی ہے، اس کے تحت روایت نمبر ۳۳۴۴ درج کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ قوم عاد جو قدیم اقوام عادي میں سے ایک کثیر القبائل قوم تھی ، علاقہ نجد میں سکونت پذیر تھی ۔ سورۃ الاحقاف رکوع ۳ میں بھی اس قوم کا ذکر ہے جس میں صراحت ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کئی نذیر اس قوم کی طرف آئے ۔ یمن اس قوم کی سلطنت کا دارالخلافہ تھا۔ احقاف نامی علاقہ انہی کا تھا جو حضرموت کے شمال میں ہے۔ جس کے شرق میں عمان ہے اور اب جو کھنڈرات کی کھدائی ہوئی ہے، ان کے برآمد شدہ آثار قدیمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قوم اپنے معتقدات میں بابلی مشرکانہ عقائد کی پابند تھی ۔ وُڈ ، سواع، یغوث، یعوق ، نسر اور بعل کے پجاری تھے۔ مسماری رسم الخط ان کے ہاں بھی رائج تھا۔ حضرت ہود علیہ السلام قوم عاد وَاذْكُرُوا إِذْ کے معزز گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ جس کا نام بقول عینی خلود تھا ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۲۲۵) آیت وَاذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ (الأعراف: ۷۰) سے ظاہر ہے کہ یہ قوم حضرت نوح کے بعد حضرت آدم سے دوسرے ہزار سال بعد ایک بڑی سلطنت کی مالک ہوئی۔ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام سے تقریباً دو ہزار سال قبل ۔ اور ابن قتیبہ نے دو، دھناء، عالج، وبار، عمان، حضرت موت وغیرہ اسی وسیع حکومت کا حصہ قرار دیا ہے۔ (فتح الباری جزء ۲ صفحه ۵ ۴۵) اور وہیں اس نے بہت بڑا عروج حاصل کیا تھا اور کفر و معصیت کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ حضرت ہود علیہ السلام اس قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ اس نام کی ایک سورۃ ہے اور اس کے رکوع نمبر ۵ آیات ۵۱ تا ۶ میں قوم عاد کی تکذیب وہلاکت کا ذکر ہے۔ ان میں سے پہلی وہ آیت ہے جس سے باب کا عنوان باندھا گیا ہے۔ اس حوالہ سے اس طرف توجہ مبذول کرائی کہ حضرت ہود علیہ السلام نبی اور ان کی قوم کا ذکر محولہ آیات میں دیکھا جائے۔ عاد اور ثمود دونوں قو میں سامی النسل ہیں اور سلسلہ نسب جو امام ابن حجر یا ابن ہشام نے بیان کیا ہے، حضرت نوح علیہ السلام ہی سے ملتا ہے اور عاد کئی قبائل شمود، طلسم ، جدلیس وغیرہ کا مجموعہ ہیں۔ جن میں سے ایک قبیلہ عا دارم ہے۔ آرامی زبان انہی کی بتائی جاتی ہے۔ عاد کے قبائل کا اثر شام و مصر و عراق تک ممند تھا اور یہ عرب عاربہ (یعنی خالص عرب ) کے نام سے موسوم تھے۔ ان کے زمانہ کا اندازہ دو ہزار سال قبل مسیح ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہزار دوم کے اوائل میں ۔ ارض القرآن، ذکر امم سامیه اولی ) ( قصص القرآن، ذکر حضرت ہوڈ ، جزء اول صفحہ ۶۵) صلى الله ی فِيْهِ عَنْ عَطَاءٍ وَسُلَيْمَانَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ عَ : عطاء سے مراد ابن ابی رباح ہیں اور سلیمان سے ابن یسار ۔ اول الذکر کی روایت کتاب بدء الْخَلْق میں موصولاً گزر چکی ہے۔ ( باب ۵ روایت نمبر ۳۲۰۶) اور ثانی الذکر کی روایت تفسیر سورۃ الاحقاف میں آئے گی۔ (دیکھئے روایت نمبر ۴۸۲۹) سورۃ الحاقہ کی ان آیات میں عاد کی باد صر صر کے ذریعے سے ہلاکت کا ذکر ہے۔ سفیان بن عیینہ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ مخازن کے ذریعہ سے آب رسانی کا انتظام تھا جنہیں آج کل انگریزی اصطلاح میں ڈیم Dams کہتے ہیں۔ یہ مخازن باد تند کے متواتر آٹھ روز چلنے اور