صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 203
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۳ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء مَحْلُوْقٌ فَقَالَ اتَّقِ اللهَ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ پیشانی آگے کو نکلی ہوئی ، داڑھی گھنی ، سر منڈا تھا۔ کہنے مَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُ أَيَأْمَنُنِي الله لگا محمد اللہ کی ناراضگی سے بچو۔ آپ نے فرمایا: اگر میں مانبرداری کون کرے گا۔ اللہ تو عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُوْنِي فَسَأَلَهُ نافرمان ہوں تو الہ کی فرمانبرداری کون کرے مجھے زمین والوں کے لئے قابل اعتبار سمجھے اور تم مجھ پر رَجُلٌ قَتْلَهُ أَحْسِبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ اعتبار نہ کرو۔ اس پر ایک شخص نے آپ سے اس کے فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ إِنَّ مِنْ ضِنْضِي قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ میں سمجھتا ہوں : وہ خالد هَذَا أَوْ فِي عَقِبِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُوْنَ بن ولید تھے ۔ آپ نے ان کو منع کیا۔ جب وہ پیٹھ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُوْنَ موڑ کر چلا تو آپ نے فرمایا: اس شخص کی نسل سے یا فرمایا: اس شخص کی پشت سے ایسے لوگ ہوں گے جو مِنَ الدِّيْنِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ قرآن پڑھیں گے مگر اُن کے گلے سے آگے نہیں يَقْتُلُوْنَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُوْنَ أَهْلَ جائے گا۔ دین سے ایسے نکلیں گے جیسے تیر شکار سے الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ باہرنکل جاتا ہے۔ اہل اسلام سے جنگ کریں گے اور قَتْلَ عَادٍ۔ بت پرستوں سے جنگ نہیں کریں گے۔ اگر میں نے ان کا زمانہ پالیا تو میں انہیں ضرور اسی طرح ہلاک کروں گا جس طرح عاد ہلاک کئے گئے ۔ اطرافه: ٣٦١٠، ٤٣٥١ ، 4667، 5058، 6163، 6931، 6933، ٧٤٣٢، ٧٥٦٢۔ ٣٣٤٥ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ :۳۳۴۵ خالد بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، الْأَسْوَدِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ قَالَ ابو اسحاق نے اسود سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ) سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (سورۃ القمر کی ) یہ يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (القمر: ١٦) آیت یوں پڑھتے ہوئے سنا: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ - کیا کوئی نصیحت پکڑنے والا ہے۔ اطرافه: ٣٣٤١، ٣٣٧٦، ٤٨٦٩، ۴۸۷٠، ۴۸۷۱، ٤۸۷۲ ، ٤٨٧٣، ٤٨٧٤۔