صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 205 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 205

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۵ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء مسلسل موسلا دھار بارشوں کے برسنے ۔ سے ٹوٹ پھوٹ گئے تھے اور ملک تھے اور ممکن ہے کہ بحیرہ قلزم کی طوفانی طغیانی نے بھی ان کے ایک حصہ علاقہ کو تباہ و برباد کر دیا ہو اور ان کا بھی وہی حال ہوا ہو جو حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا ہوا تھا۔ کیونکہ عاد اولی یا عا دارم صرف بدوی قبائل کا مجموعہ نہیں تھی بلکہ وہ ایک بہت بڑی متمدن قوم تھی ، جسے ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقُ مِثْلُهَا فِي الْبِلادِ کے وصف سے موصوف کیا گیا ہے کہ وہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں اور لاؤ لشکر والے تھے، جن کی مانند کوئی اور ان ملکوں میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ (الفجر : ۸، ۹) اور جو امر قابل توجہ اور عبرت ہے وہ حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی اس تباہی خیز طوفان سے نجات اور ان کی قوم کی حسب اندار ہلاکت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خارق عادت سلوک ہر نبی کے ساتھ ہوا اور اس ضمن میں کفار قریش اور ان کے ہمنوا بادیہ نشین قبائل کے بد انجام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کے نیک انجام کی پیشگوئی ہے۔ اس بار بار ۔ اس بار بار کے تجربے اور مشاہدہ کو اتفاقی حادثہ پر محمول کرنا سخت حماقت ہے۔ عاد جب برباد ہوئے تو ان کی بستیاں (احقاف ) تو رہ ریت بنا دی گئیں۔ صَرُ صَر کے معنی ہیں تیز آندھی ۔ یہ ابو عبیدہ سے مروی ہے اور عَتَتْ عَلَى الْخُزَانِ کی تشریح سفیان بن عیینہ سے مروی ہے۔ حُسوما کے معنی ہیں مسلسل ۔ یہ بھی ابو عبیدہ ہی سے مروی ہے۔ خلیل نحوی نے حُسوما سے سخت کاٹنے والی باد تند مراد لی ہے۔ جو حَسَم کا مصدر ہے اور اس کے معنی ہیں قَطَعَ - فُعُولا کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَة کے معنی ہیں کھجوروں کی جڑیں اکھڑی گری پڑی تھیں۔ یہ معنی بھی ابو عبیدہ ہی سے مروی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵ ۴۵) تفسیری الفاظ کے علاوہ اس باب کے تحت جو روایتیں نقل کی گئی ہیں، ان میں سے پہلی روایت میں ۔ ہے نُصِرْتُ بِالصَّبا ۔ اس کی نسبت دیکھئے کتاب المغازى باب قصة غزوة بدر - دوسری روایت کا تعلق سوا اس کے نہیں معلوم ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے نجدی قبائل جو قوم عاد میں سے ہیں ہدایت پائیں گی اور یہ بات پوری ہوئی اور ایک فتنہ بھی ان میں سے پیدا ہوا، یعنی فتنہ عبداللہ بن سباء ۔ ( دیکھئے کتاب الفتن باب (۱۶) کتاب احادیث الانبیاء میں اسی غرض سے قرآن مجید کی آیات متعلقہ بیان کی گئی ہیں کہ وہ آئندہ کی پیشگوئیاں ہیں، نہ بطور قصہ کہانی۔ روایت نمبر ۳۳۴۵ سے اس امر کا اظہار ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کی تطبیق اپنی ذات اور اپنے مکذبین پر فرمائی ہے۔