صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 201
صحيح البخاری جلد 4 ۲۰۱ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء بَاب ٦ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يُقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔اس نے کہا: اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو (هود: ۵۱) وَقَوْلُهُ: إِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهُ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا ذکر : جب اس نے اپنی قوم کو تو دو بِالْأَحْقَافِ إِلَى قَوْلِهِ كَذلِكَ ہائے ریگستان میں برپا ہونے والی آفت ناگہانی سے آگاہ کیا۔۔۔۔پس جب اس کی قوم نے اس عذاب کو بادل کی نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو (الأحقاف: ٢٢-٢٦) انہوں نے کہا: یہ ایک بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔(ہم نے کہا: نہیں۔یہ وہ (عذاب) ہے جس کو تم جلدی مانگتے تھے۔یہ ایک ہوا ہے جس میں دردناک عذاب پوشیدہ ہے۔اس طرح ہم مجرم قوم کو سزا دیا کرتے ہیں۔فِيْهِ عَنْ عَطَاءٍ وَسُلَيْمَانَ عَنْ عَائِشَةَ اس کے متعلق عطاء بن ابی رباح ) اور سلیمان ( بن بیسار ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔سے روایت ہے۔انہوں نے حضرت عائشہؓ سے، حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔وَقَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاَمَّا عَادٌ اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانا کہ عاد ایک نہایت تیز آندھی فَأَهْلِكُوا بِرِيْحِ صَرْصَ شَدِيدَةٍ سے تباہ کر دیئے گئے۔صرصر کے معنی غایت تیز۔عَاتِيَةٍ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَتَتْ عَلَى ابن عیینہ نے کہا: عاتية کے معنی ہیں تند۔وہ آندھی دار وغوں کے قابو سے نکل گئی۔اس آندھی کو سات رات اور آٹھ دن تک لگا تار کام میں لگائے رکھا۔حُسُومًا کے معنی ہیں لگا تار۔تم اس قوم کو اس آندھی میں ایسے مرے پڑے دیکھتے کہ گویا وہ کھوکھلی کھجوروں کے تنے الْحُزَانِ، سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمُنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوْمًا مُتَتَابِعَةً فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ أُصُولُهَا فَهَلْ تَرَى ہیں۔خَاوِيَةٌ کے معنی ہیں جن کی جڑیں کھوکھلی ہو کر گر لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةِ (الحاقة: ٧-٩) بَقِيَّةٍ پڑیں۔کیا تم ان میں سے کوئی بچا ہوا بھی دیکھتے ہو۔