صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 200 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 200

صحيح البخاري - جلد 4 ۲۰۰ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء کے پہلے شرعی نبی ہیں اور حضرت حنوک ( اور لیس ) نبی جو ان کے پردادا ہیں ہزار اول کے آخری خلفاء آدم علیہ السلام سے ہیں اور حضرت الیاس علیہ السلام بھی ان کے خلفاء ہی میں سے معلوم ہوتے ہیں جنہوں نے ارض بابل میں بعل کی پرستش کے خلاف اور توحید باری تعالی کے حق میں آواز اُٹھائی۔اس تعلق میں ایک سوال کا جواب باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ سورہ انعام کی آیات ۸۴ تا ۸۷ میں حضرت الیاس نبی علیہ السلام انبیاء بنی اسرائیل کے زمرہ میں شمار کئے گئے ہیں تو اس کا جواب خود سیاق کلام میں موجود ہے کہ وہاں ان کا ذکر بلحاظ مدارج وارد ہوا ہے جس میں زمنی ترتیب ملحوظ نہیں، نہ قومی نسبت۔نہ صرف حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ کی یہ رائے ہے بلکہ علمائے مصر میں سے اشیخ رشید رضا مرحوم کی بھی یہی رائے ہے لیے ان کے نزدیک یہاں پانچ گروہوں کا ذکر ہے۔ایک گروہ نبی و رسول ہونے کے علاوہ بادشاہ بھی تھے، جیسے حضرت داؤد و حضرت سلیمان علیہما السلام - دوم جو نبی ہونے کے علاوہ حکمرانی کے منصب پر بھی فائز تھے، جیسے حضرت ایوب اور حضرت یوسف علیہما السلام۔( اول الذکر صاحب ریاست تھے اور ثانی الذکر وزیر اور کار پرداز مملکت ) تیسرا گروہ صاحب شریعت انبیاء کا جیسے حضرت نوح اور حضرت موسی علیہم السلام۔اور چوتھا گروہ زاہدوں اور تارک الدنیا انبیاء کا ، اس دائرے میں حضرت سہی ، حضرت ذکریا، حضرت عیسیٰ اور حضرت الیاس علیہم السلام ہیں۔پانچویں گروہ میں حضرت اسماعیل ، حضرت البيع (یسعیاہ) حضرت یونس اور حضرت لوط علیہم السلام ہیں جو متوسط درجے پر فائز تھے، نہ خالص زہادت اختیار کی کہ ترک دنیا ہو بلکہ میانہ روی کی زندگی اختیار کرتے ہوئے حق تبلیغ و رسالت ادا کیا۔امام بخاری نے کتاب الانبیاء کی تمہید ان الفاظ سے اُٹھائی ہے: الاَروَحُ جُنُودٌ مُّجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ الْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ اخْتَلَفَ۔اور باب ۵ میں معراج سے متعلق جو حدیث نقل کی گئی ہے کہ انبیاء علیہم السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ مرحبا سے استقبال کیا اور آپ کی آمد سے خوش ہوئے۔اس کی تعبیر یہ ہے کہ انبیاء کی بعثت کی غرض و غایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود سے پایہ تکمیل کو پہنچے گی اور آپ دنیا میں ان کے صحیح نمائندہ اور مظہر ہوں گے۔اس مظہریت جامع اور تکمیل دین اور اس کی اشاعت کے لحاظ سے آپ نے خاتم النبین ﷺ کا لب پایا اور بتایا جاچکا ہے کہ قرآن مجید میں انبیائے متقدمین کا ذکر در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات سے متعلق انباء غیب پر مشتمل ہے۔یہ امر باب ۲۷ اور اس کے بعد کے ابواب کی شرح سے پورے طور پر واضح ہو جائے گا اور قارئین شرح بخاری کو معلوم ہو جائے گا کہ خاتم النبین ﷺ کی اس شان کا بیان جو ابواب کتاب الانبیاء میں ہے کسی تاویل رکیک یا خوش عقیدگی پر قطعا مبنی نہیں بلکہ اظہار حقیقت ہے جو امام بخاری کے مد نظر ہے۔(Translation of the Holy Quran by Muhammad Ali, footnote Anaam:^{-AY) (تفسير المنار، تفسير سورة الانعام، آیات ۸۴ تا ۸۷)