صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 199 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 199

صحيح البخاری جلد 4 ١٩٩ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء قرار دیا ہے۔میں نے اب تک نہیں دیکھا کہ انہوں نے ابواب و روایات میں ترتیب نظر انداز کی ہو۔بعض نے حضرت الیاس علیہ السلام کو عہد قدیم کا ایلیاء نبی قرار دیا ہے۔جنہوں نے شرک کے خلاف آواز اٹھائی اور دعوت تو حید دی۔حضرت امام جماعت احمدیہ خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تحقیق میں حضرت الیاس نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قبل بعل پرست اقوام کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔آپ کی تحقیق کی رو سے حضرت الیاس نام کے تین الیاس ہیں۔چنانچہ آپ تفسیر صغیر میں آیت سَلَامٌ عَلى إِلْ يَاسِينَ (الصافات: ۱۳۱) کی شرح میں حاشیہ تحریر فرماتے ہیں:- دد بعض نے کہا ہے کہ یہ الیاس کی قرآت ہے مگر یہ درست نہیں۔الیاس کی جمع الیاسین بھی ہوتی ہے اور یہودی اور اسلامی لٹریچر سے معلوم ہوتا ہے کہ الیاس تین ہیں۔ایک الیاس جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے گزرے تھے اور ایک سیکی، جن کا نام پیشگوئی میں الیاس آیا تھا اور حضرت مسیح نے بھی ان کو الیاس قرار دیا ہے اور ایک آخری زمانہ میں آنے والا الیاس جو مسیح موعود سے پہلے اسی طرح ظاہر ہونا تھا جس طرح مسیح ناصرتی کے لئے سجی تھے۔یہ الیاس حضرت سید احمد بریلوی تھے جن کی قبر اس وقت بالا کوٹ ضلع ہزارہ میں ہے۔(تفسیر صغیر، سورۃ الصافات حاشیه آیت ۱۳۱ صفحه ۵۹۳) امام بخاری نے بھی الیاس نبی کو اور لیس (حنوک) نبی سے پہلے رکھا ہے جو بلا وجہ نہیں۔اس تعلق میں انہیں کوئی مستند روایت نہیں ملی۔عہد قدیم کی کتب میں کئی نبیوں کا ذکر ہے۔جنہوں نے بعد کی عبادت اور شرک کے خلاف سختی سے آواز اُٹھائی اور بنی اسرائیل کو اس سے روکا جو ہمسائیہ غیر اقوام کی تقلید میں بعل کی پوجا کرتے تھے۔وہ اس کی دھونی رماتے۔اس کے سامنے سوختنی قربانی گزارتے اور انہوں نے ان کی بد رسوم اختیار کر لیں اور وہ بدکاری اور مخش کاری میں مبتلا ہو گئے۔ان میں سے قابل ذکر حضرت یشوع ہیں۔( یشوع کی کتاب باب ۲۴) انہوں نے عام طور پر غیر اقوام کے معبودوں کی پرستش سے منع فرمایا اور ایلیا (۱۔سلاطین باب ۱۸ آیت ۱۸ تا ۲۶)، یسعیاه (۲) تواریخ باب ۳۴) (یسعیاہ باب ۱۰۹) سر میاه (باب ۲ آیت (۸) ( باب ۱۲ آیت ۱۶، ۱۷) ( باب ۱۹ آیت ۶،۵) نے بھی ایسا ہی کیا۔اور حز قیل، دانیال اور زکریا علیہم السلام وغیرہ نے بھی بنی اسرائیل کو غیر اقوام کے بتوں سے روکا اور شدید انذار کیا۔یہ نبی حضرت الیاس علیہ السلام کے زمرہ ہی میں شمار کئے جاسکتے ہیں کہ انہوں نے بعد کی عبادت سے روکا اور توحید کی دعوت دی۔حزقیل اور ذوالکفل ایک ہیں۔(دیکھئے تفسیر کبیر، سورۃ الانبیاء، آیت (۸۶) سَلَامٌ عَلى إِلْ يَاسِينَ- یہ نام جمع کا صیغہ ہے۔الیاس اوّل کی نسبت بعض کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ۹۰۰ برس پہلے ہوئے ہیں۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ امام بخاری نے اس بارے میں کوئی مستند روایت درج نہیں کی اور نہ اپنی رائے کا اظہار فرمایا ہے۔سوا اس کے کہ ان کا ذکر حضرت اور لیس (حنوک) نبی سے پہلے کیا ہے اور یہ نبی حضرت نوح علیہ السلام کے پردادا تھے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت الیاس کی بعثت ہزار اول کے آخر میں ہوئی۔کیونکہ حضرت نوح علیہ السلام ہزار اول