صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 198
صحيح البخاری جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء آیت میں ہے اور بنی اسرائیل نے خداوند کے آگے بدی کی اور تعلیم کی پرستش کرنے لگے اور وہ خداوند کو چھوڑ کر چوگرد کی قوموں کے دیوتاؤں بعل اور عستارات کی پرستش کرنے لگے۔اور قضاۃ باب ۸ آیت ۳۳ میں ہے کہ وہ تعلیم کی پیروی میں زنا کاری کرنے لگے اور بعل بریت کو اپنا معبود بنا لیا۔اور بنی اسرائیل کے اس دیوتا کی پرستش کا ذکر سلاطین اول باب ۱۶ آیت ۳۱ باب ۱۸ آیت ۱۸ تا ۲۶ ، سلاطین دوم باب ۲۱ آیت ۳ وغیرہ میں وارد ہوا ہے اور سلاطین اول و دوم کے ان حوالوں کی تفصیل سے ظاہر ہے کہ ایلیاء نبی ، حزقیاہ اور یسعیاہ نبی نے بنی اسرائیل کو ملامت کی اور غیر قوموں کے بت بعل کی عبادت سے انہیں روگردان کیا اور خداوند حقیقی کی طرف متوجہ کیا۔غرض اصل مرکز بعل کا ارض عراق ہے نہ ارض شام۔وہیں سے ہمسایہ ممالک میں اس کی عبادت اخذ کی گئی۔اور ھبل دیوتا سے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بل کی بگڑی ہوئی شکل ہے جو دراصل هُوَ بَعُل ہے۔هُوَ عربی میں اسم ضمیر ہے۔غرض قرآن مجید کی آیات مندرجہ باب ۴ میں حضرت الیاس علیہ السلام کا بعل کی عبادت پر اپنی قوم کو ملامت کرنا بتاتا ہے کہ وہ اس علاقہ میں مبعوث ہوئے ہیں جو اس کی پرستش کا مرکز تھا اور یہ جزیرہ عراق ہے نہ کہ شام یا کنعان یا جزیرہ عرب۔یہ علاقے جزیرہ عراق کی بابلی حکومت کے عروج سے مذہبا ضرور متاثر تھے۔جیسا کہ تو رات کے مذکورہ بالا حوالوں سے ظاہر ہے کہ اسرائیلی موحد اقوام نے بھی بعل کے نام پر قربان گاہیں بنائی ہوئی تھیں۔کا ہن اس کو خوشبو دار بخارات کی دھونی دیتے۔مینڈھے ذبح کرتے اور کبھی کبھی انسانی قربانی کی نذر بھی پیش کرتے تھے یا یہاں تک کہ بعل کی خدائی کا عقیدہ ان کے ذہنوں پر مستولی تھا اور دور ونزدیک کے علاقوں تک اس کا اثر پھیلا ہوا تھا۔نہ صرف شام بلکہ یمن میں بھی وہ پوجا جاتا تھا۔قرآنِ مجید کی آیت وَإِنَّ الْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ (الصافات: ۱۲۴) سے ظاہر ہے کہ وہ رسول تھے جنہوں نے شرک اور بعل کی عبادت کے خلاف آواز اُٹھائی اور آیت سَلَامٌ عَلَی الُ يَاسِینَ (الصافات: ۱۳۱) سے پایا جاتا ہے کہ اس نام پر ان کے علاوہ اور بھی نبی یا مجدد ہوئے ہیں۔جیسا کہ بعض مفسرین نے بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ایلیا نبی کو الیاس کا ہم نام قرار دیا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں سے تھے اور سورۃ الصافات کی آیت وَان إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ (الصافات: ۱۲۴) میں بھی حضرت الیاس مرسلین میں شمار کئے گئے ہیں اور ان کا نام حضرت یونس نبی قوم نینوں سے پہلے ہے اور بعض نے ایلیاء نبی کو الیاس قرار دیا ہے۔ایک نبی دوسرے نبی کے نام پر ملقب ہوسکتا ہے۔جیسے مسیح ناصری علیہ السلام کے نام پر مسیح موعود علیہ السلام مجد وامت محمدیہ۔امام بخاری نے انبیاء علیہم السلام سے متعلق الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُّجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ الْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ اخْتَلَفَ سے تمہید انبیاء قائم کی ہے جو اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ سب غرض و غایت، طریق عمل اور سلوک الہی اور انجام مخالفت کے اعتبار سے ایک ہیں۔حضرت الیاس علیہ السلام انبیاء ازمنہ قدیم کے پہلے دور کے مرسلین میں سے ہونے میں کوئی روک نہیں اور یہ امر یقینی ہے کہ حضرت امام بخاری نے انہیں حضرت ادریس (اخنوخ ) نبی سے الگ اور ان سے قبل عداد یرمیاہ باب ۱۹، آیت ۵) (۲- سلاطین باب ۲۱ آیت ۳، باب ۲۳ آیت ۵،۴) (ارض القرآن حصہ دوم صفحہ ۳۷۶)