صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 197
صحيح البخاری جلد ٦ ۱۹۷ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء بہت بڑا مندر تھا۔میں نے بعلبک دیکھا ہے۔اور ان کا استدلال اس امر سے بھی ہے کہ سامی النسل تو میں بعل اور کواکب کی پرستش کرتی تھیں اور ان کے نزدیک بعل صنم بحل یا مشتری ستارے کا معنی سمجھا جاتا تھا۔لے لیکن ہمارے زمانے میں جو اکتشافات عراق عرب میں ہوئے ہیں اس میں بابل کے علاقہ میں ایک عظیم الشان مند رمع لائبریری کا اکتشاف بھی ہوا جو بعل مرڈوک کے نام پر تھا۔مردوک کے معنی ہیں چاند بعل کے معنی ہیں مالک ، رب۔بعد مردوک کے معنے ہیں رب القمر۔وہاں بھی قدیم زمانے میں بعل سورج، چاند دیوتاؤں اور دیگر کواکب کی پوجا ہوتی تھی اور بعل صنم مشرکوں کے نزدیک چاند دیوتا کا مظہر یقین کیا جاتا تھا۔تفسیر روح المعانی میں بعل کے ایک بت کا ذکر ہے کہ وہ سونے کا تھا۔میں گز قامت،جس کے چار مکھ اور جس کی خدمت کے لئے چار سو پروہت تھے۔(روح المعانی، تفسیر سورۃ الصافات ، آیت ۱۲۵) لیکن جو بت عراق کے کھنڈرات سے برآمد ہوا ہے، وہ سونے کا نہیں۔لیکن جسامت میں بہت بڑا ہے۔حموراب پہلے حکمران خاندان کا چھٹا بادشاہ تھا جو موحد تھا اور اس نے مردوک اور چاند (دیوتا) کی عبادت منسوخ کر کے خدا تعالیٰ کا نام بعل مردوک رکھا اور اس کے نام سے ایک شریعت کا اکتشاف ہوا ہے جو انبیاء علیہم السلام کی شریعت سے ملتی جلتی ہے۔اس موحد بادشاہ کی سلطنت کا زمانہ ۱۶۸۶ تا ۷۲۸ اقبل مسیح ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں جو طوفان آیا ہے، اس کا ذکر بھی کھنڈرات بابل سے برآمد شدہ تختیوں میں سے گیارھویں سختی پر (Cuneiform) مسماری حروف میں پایا گیا ہے۔جو عہد نامہ قدیم کے ذکر سے ملتا جلتا ہے۔صرف یہ فرق ہے کہ اسرائیلی مصنفین نے اپنے بیان میں اپنے تخیل سے کچھ اضافے کئے ہیں۔(ملاحظہ ہو جیوش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ حمورابی) پس ان اکتشافات کی بناء پر کیوں نہ سمجھا جائے کہ حضرت الیاس نبی کی بعثت کا تعلق بابلی اقوام کی ہدایت سے تھا جو بہت ترقی یافتہ تھیں اور مثل ترقی یافتہ مشرک اقوام کے عیاش و بدکار تھیں۔امام بخاری کا نوح علیہ السلام کے باب کے بعد بابہ میں سورۃ الصافات کی ان آیات کا حوالہ دینا بلا وجہ نہیں۔جن دنوں میں باہلی حکومت عروج پر تھی تمام سامی النسل اقوام کلدانی فیضی، کنعانی مو آبی، آشوری اور د پانی وبجلی وغیرہ قابل عقائد ورسوم میں اس کے زیر اثر تھیں۔جیسا کہ قاعدہ ہے کہ ترقی یافتہ حکومت کا تمدن اور طور طریقے ہی پسند اور اختیار کئے جاتے ہیں۔بعل کی پرستش ہر جگہ رائج تھی۔بعد کے معنی ہیں خدا۔عربی میں خاوند کو بعل کہتے ہیں۔توریت میں اس کا ذکر متعدد جگہ وارد ہوا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ اس کی پوجا مختلف مرکب ناموں سے کی جاتی تھی۔ہر نام کا اصل حصہ بعل ، بعل مردوک، بعل فغور، بعل بریت اور بعل زبول اور بعلیم کے کلدانی بعل، بیل، بعل، بعلوس اور بغلوں کے نام سے مذکورہ بالا دیوتا کو پکارتے تھے۔حرف میم اور حرف سین جمع کی علامت ہے جس سے عزت افزائی مد نظر ہوتی۔گنتی باب ۲۲ آیت ۴۰ ۴۱ میں ہے کہ مطلق نے بیل اور بھیٹروں کی قربانی گذرانی۔دوسرے دن صبح کو بلق بلعام کو ساتھ لے کر اسے بعل کے بلند مقاموں پر لے گیا۔‘ قضاۃ باب۲ ( قصص القرآن، ذکر حضرت الیاس علیہ السلام، حصہ دوم صفحه ۲۰ تا ۲۳) ا۔سلاطین باب ۱۶ آیت ۳۱ ۳۲) ( قضاة باب ۸ آیت ۳۳) (۲- سلاطین باب۱) ( گنتی باب ۲۵ آیت ۳)