صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 196
صحيح البخاری جلد ٢ ۱۹۶ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء بزبان اردو املا کروائی اور مولوی صاحب مرحوم انگریزی میں ترجمہ کرتے تھے اور حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ نظر ثانی فرماتے ۔ چنانچہ مسجد مبارک قادیان کے ملحقہ جس چھوٹے کمرے میں یہ کام ہوتا ، اس میں مجھے بھی رہنے کا موقع ملا ہے اور اس تفسیر کا انگریزی مسودہ میری تحویل میں تھا، قبل اس سے کہ عربی تعلیم حاصل کرنے کے لئے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے مجھے مصر بھیجا۔ آپ کی جس رائے کا میں نے حوالہ دیا ہے، اس سے متعلق مجھے پورا وثوق ہے۔ علاوہ ازیں دیباچہ میں خود مترجم مذکور نے بھی اس کا اقرار کیا ہے کہ یہ تفسیر آپ کے فیوض وانفاس قدسیہ کی مرہونِ منت ہے۔ ( جو لفظا لفظا املاء کئے گئے تھے ۔ ) آپ کی وفات کے بعد جب قرآن مجید کا یہ انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا تو اس وقت بعض جگہ مترجم نے تصرف کیا ہے جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے متعلق ۔ حنوک اور ادرلیس کی شخصیت سے متعلق حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تحقیق ہر جہت سے مکمل ہے اور قابل مطالعہ۔ دیکھئے تفسیر کبیر - تفسیر سورۃ مریم آیت ۵۸، جلد ۵ صفحه ۲۹۶ تا ۳۱۳ ابن اسحاق مشہور اسلامی مؤرخ ہیں اور امام زہری کے بعد وہ مورخین اسلام میں اول نمبر پر ہیں۔ ان کے حوالے سے امام ابن حجر نے حضرت نوح علیہ السلام کے نسب نامہ کا ذکر بایں الفاظ امہ کا ذکر بایں الفاظ کیا ہے : نُوح بن لَمُک بُن مُتُو شَلَخ بن أَخْنُوحٍ وَهُوَ إِدْرِيسُ النَّبِي فِيمَا يَزْعُمُونَ کا خنوخ اور اخنوخ حنوک نام ہی کا عبرانی تلفظ ہے۔ اسی طرح اور لیس سے متعلق جہاں بعض علماء کی یہ رائے نقل کی ہے کہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ وہاں بعض دوسرے علماء بعض دوسرے علماء کا خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ سریانی زبان کا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۱(۴۵) عربی ہو یا عبرانی یا سریانی یہ سب زبانیں سامی الاصل ہیں اور ان کا ماخذ عربی ہے جو اُم الالسنہ ہے اور ادریس کے معنی ہر سامی زبان میں بہت پڑھے ہوئے کے ہیں جو لفظ دراسة سے مشتق ہے۔ جو نسب نامہ ابھی ابن اسحاق کے حوالہ سے نقل کے حوالہ سے نقل کیا گیا ہے۔ اس کی رو سے حضرت ضرت حنوک یا حضرت اور پیس نبی حضرت نوح علیہ السلام کے پردادا ہیں جو باب ۵ کا موضوع ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات بحالت معراج ہوئی اور انہوں نے آپ کو النَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالآخِ الصَّالِحِ کے الفاظ سے مرحبا کہا۔ یہ سوال کہ الیاس نبی علیہ السلام جن کا ذکر باب ۴ میں سورۃ الصافات آیات ۱۲۴ تا ۱۳۳ کے حوالہ سے کیا گیا ہے، وہ کون تھے؟ اس بارہ میں مفسرین اور مورخین کا اتفاق ہے کہ وہ آسوری اقوام کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور بعلبک کا مشہور شہر اُن کی رسالت کا مرکز تھا۔ ان کا استدلال قرآن مجید کی آیات وَإِنَّ الْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِةِ أَلَا تَتَّقُوْنَ أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُوْنَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينِ ) (الصافات: ۱۲۴ تا ۱۲۶) { ترجمہ حضرت خلیفہ اسح الرابع : اور الیاس بھی یقینا مرسلین میں سے تھا۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرو گے؟ کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور پیدا کرنے والوں میں سے سب سے بہتر کو چھوڑ دیتے ہو۔} سے ہے۔ بعلبک کے نام پر صلى الله عيد السيرة النبوية لابن هشام، ذكر سرد النسب الزكي من محمد عة ۔ الى آدم عليه السلام)