صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 195 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 195

صحيح البخاری جلد 4 ۱۹۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ترتیب زمنی ملحوظ نہیں اور وَمِنْ ذُرِّيَّتِہ میں ضمیر "و" اگر حضرت نوح علیہ السلام کی طرف پھیری جائے تو چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کی نسل میں سے تھے، اس لئے سب انبیاء انہی کی ذریت شمار ہوگی۔اگلی سورۃ یعنی الاعراف میں جن انبیاء کا ذکر ہے اس میں زمینی ترتیب موجود ہے مگر یہاں نہیں۔اس لئے حضرت الیاس سے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ یہ اسرائیلی نبی تھے۔قرآن مجید کی آیات زیر باب ۴ سے ظاہر ہے کہ یہ وہ الیاس ہیں جن سے انبیاء وصلحاء کا ایک گروہ پیدا ہوا۔جیسا کہ آیت سَلَامٌ عَلى إِلْ يَاسِینَ (الصافات: (۱۳۱) دلالت کرتی ہے اور یہ بات عنوانِ باب میں حضرت ابن عباس کے حوالے سے نمایاں کی گئی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ حضرت الیاس کون ہیں؟ آیا وہ جو ایلیا نبی کے نام سے عہد قدیم کی کتابوں میں معروف ہیں اور جن کی نسبت مشہور ہے کہ وہ آسمان پر اُٹھائے گئے اور یہود حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے ان کے نزول کے منتظر ہیں یا کوئی اور؟ کیونکہ ایک نام کے دو شخص بھی ہو سکتے ہیں۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امام بخاری ابواب قائم کرنے میں ترتیب ملحوظ رکھتے ہیں اور حضرت الیاس سے متعلق باب حضرت نوح علیہ السلام کے باب سے بعد اور حضرت ادریس والے باب سے پہلے قائم کیا ہے جس سے ان کے زمانے کا پتہ چلتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر جلد پنجم صفحہ ۲۹۶ تا ۳۱۳ میں حضرت اور لین سے متعلق سیر کن مفصل بحث کر کے ثابت کیا ہے کہ حضرت ادریس کا ذکر یہودی قدیم روایات میں حنوک نبی کے نام سے وارد ہوا ہے۔دیکھئے پیدائش باب ۵ آیات ۱۸ تا ۲۴۔اس میں لکھا ہے: وو اور حنوک کی کل عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور وہ غائب ہو گیا کیونکہ خدا نے اسے اُٹھا لیا۔“ ( پیدائش باب ۵ آیت ۲۴) خدا کے ساتھ ساتھ چلنے کا محاورہ توریت وانجیل میں کامل فرمانبرداری کے معنوں میں کئی نبیوں اور صالحین کے لئے استعمال ہوا ہے۔( پیدائش باب ۱۷، آیت ) ( میکاه باب ۶، آیت ۸) حضرت نوح کے لئے بھی چلنے کا یہی محاورہ استعمال ہوا ہے۔(پیدائش باب ۶ آیات ۱۰۹) اسی طرح اٹھا لینے کا محاورہ وفات پانے کے معنوں میں ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ثابت کیا ہے کہ حنوک اور ادریس ہم معنی ہیں۔عربی لغت کی کتابوں میں دیکھئے اَلْحُنک کے معنی الرَّجُلُ اللَّبِيبُ الَّذِي أَحْنَكَتُهُ التَّجَارِبُ کئے گئے ہیں۔(اقرب الموارد- جنک) بہت عقل مند آدمی جسے زمانے کے تجارب نے خوب ماہر بنادیا ہو۔جنگ اور جنگ اسم بھی انہی معنوں میں ہیں۔عبرانی عربی ہی کی تبدیل شدہ اور ہم شکل لہجہ زبان ہے۔اور یس کے معنی ہیں بہت پڑھا ہوا۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی بھی یہی رائے تھی۔( حقائق الفرقان تفسیر سورۃ مریم آیت ۵۷، جلد سوم صفحہ ۷۳ ) نیز دیکھئے ترجمہ و شرح قرآن مولوی محمد علی صاحب مرحوم زیر آیت مذکورہ بالائی یہ شرح حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ہماری موجودگی میں (Translation of the Holy Quran by Muhammad Ali, footnote Maryyam:°Y)