صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 194
صحيح البخاری جلد 4 ۱۹۴ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء حضرت ابن مسعود کا قول عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے۔الیاس هُوَ ادْرِيسُ) اور حضرت ابن عباس کا قول ضحاک سے مروی ہے۔پہلے قول کی سند حسن (اچھی) ہے مگر دوسرا قول ضعیف ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۵۱) لیکن امام بخاری کے نزدیک دونوں قول قابل اعتماد نہیں۔حضرت الیاس کی شخصیت اور ان کے حالات کی نسبت کوئی مستند قابل اعتماد روایت نہیں ملی۔اس لئے قرآن مجید کی محولہ بالا آیات پر اعتماد کیا گیا ہے کہ اس میں دونوں نبیوں کا ذکر الگ الگ ناموں سے وارد ہوا ہے۔مذکورہ بالا راویوں کے جو اقوال حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب کئے گئے ہیں درست نہیں۔دوسرا تصرف یہ ہے کہ باب ۵ کے عنوان میں صراحت ہے کہ حضرت اور لیس نام ہے حضرت نوح علیہ السلام کے پر دادا کا۔اس کے ساتھ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام کے دادا تھے۔امام ابن حجر نے کہا ہے کہ یہ اختلاف قابل التفات نہیں۔کیونکہ لفظ جد کے مفہوم میں دادا پردادا اور اوپر کی نسل کے لوگ مجاز شامل ہو جاتے ہیں۔لیکن یہ اختلاف اہمیت رکھتا ہے کہ الیاس اور ادریس ایک نہیں ہیں۔(فتح الباری جزء۶ صفحه ۴۵۳ ) اور یہ استدلال کہ قرآن مجید نے حضرت الیاس نبی کو انبیاء بنی اسرائیل میں سے شمار کیا ہے، درست استدلال نہیں۔کیونکہ حضرت ایوب علیہ السلام بھی تو اسی زمرہ میں مذکور ہیں حالانکہ وہ غیر اسرائیلی ہیں۔اس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔(دیکھئے تشریح باب ۲۰) اور حضرت نوح علیہ السلام کو ان انبیاء سے قبل بتایا ہے۔اگر حضرت اور لین کو حضرت الیاس تصور کیا جائے تو یہ امر پوتے کو دادا قرار دینے کے مترادف ہوگا جو مضحکہ خیز ہے۔فرماتا ہے: وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ ، نَرْفَعُ دَرَجَتٍ مَّنْ نَّشَاءُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيْمٌ وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَنَ وَأَيُّوبَ وَيُوْسُفَ وَمُوسَى وَهَرُونَ ، وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلّ مِنَ الصَّلِحِيْنَ ، وَإِسْمَعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوْطًا وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَلَمِينَ 0 (الأنعام: ۸۴ تا ۸۷) اور یہ ہماری طرف سے (دی ہوئی ایک ) دلیل تھی (جو) ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے خلاف سکھائی تھی۔ہم جسے چاہتے ہیں درجوں میں بلند کرتے ہیں۔تیرا رب یقیناً حکمت والا (اور ) خوب جاننے والا ہے اور ہم نے اس کو ( یعنی ابراہیم کو ) اسحاق اور یعقوب عطا کئے۔ہم نے (ان) سب کو ہدایت دی تھی اور (اس سے) پہلے ہم نے نوح کو ہدایت دی تھی اور اس (یعنی ابراہیم ) کی اولاد میں سے داؤ داور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو ( بھی ) اور اسی طرح ہم اچھی طرح کام کرنے والوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں اور زکریا اور بیچی اور عیسی اور الیاس کو بھی (ہدایت دی تھی۔یہ سب کے سب نیکوں میں سے تھے اور اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی ہدایت دی تھی اور ان سب کو ہم نے تمام جہانوں ( قوموں) پر فضیلت دی۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کی ذریت میں سے تھے نہ کہ ان سے پہلے۔یہ استدلال امام ابن حجر کا ہے (فتح الباری جزء ۱ صفحه ۲۵ ) مگر اس پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ سیاق آیات میں