صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 193
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۹۳ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَقَالَ هِيَ نظر ثانی کراؤ، کیونکہ تیری امت اتنی برداشت نہیں کر سکے خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ گی۔ میں لوٹا اور اپنے رب سے نظر ثانی کے کے لئے عرض الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پانچ نمازیں ہیں اور یہ پچاس بھی ہیں۔ میرے حضور بات نہیں بدلی جاتی۔ اس پر میں فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَقُلْتُ قَدِ حضرت موسی کے پاس واپس آیا۔ انہوں نے کہا: اپنے اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَّبِّي ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى ربّ سے واپس جا کر پھر نظر ثانی کراؤ۔ میں نے کہا: أَتَى السِّدْرَةَ الْمُنْتَهَى فَغَشِيَهَا أَلْوَانُ اب تو مجھے اپنے رب سے شرم آگئی ہے۔ پھر جبریل چل لَا أَدْرِي مَا هِيَ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا پڑے یہاں تک کہ سدرہ اتنی پر پہنچے اور وہاں طرح طرح کے رنگ چھائے ہوئے تھے۔ میں نہیں جانتا وہ فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُقِ وَإِذَا تُرَابُهَا کیا تھے؟ پھر مجھے جنت کے اندر لے جایا گیا۔ میں کیا الْمِسْكُ۔ اطرافه: ٣٤٩، ١٦٣٦ دیکھتا ہوں کہ اس میں موتی کے گنبد ہیں اور کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں مٹی مشک کی ہے۔ تشريح : وَإِنَّ الْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ: حضرت الیاس علیہ السلام کے تعلق ہیں۔ میں یہ امر بھی مد نظر رہے کہ قرآن مجید نے قوم نوح کے آخری انذار اور ہلاکت سے قبل کئی رسولوں کی بعثت کا ذکر فرمایا ہے جن میں حضرت الیاس اور حضرت اور لیس علیہم السلام بھی ہیں۔ فرماتا ہے: كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ ) (الشعراء: ١٠٦) یعنی قوم نوح نے رسولوں کی تکذیب کی۔ باب ۴ میں جو عنوان قائم کیا گیا ہے وہ سورۃ الصافات کی آیات ۱۲۴ تا ۱۳۳ کے الفاظ ہیں اور اس میں حضرت ابن مسعود اور اور حد حضرت ابن عباس عباس کے حوالہ کا ذکر کر ہے ہے کہ کہ الیاس الیاس ا اور اور لیس ایک ہی ہی ہیں۔ ہیں۔ مگر ملر باب باب ۵ ۵ میں حضرت ادریس اور علیہ السلام کا علیحدہ ذکر کر کے اس میں ایک دوسرا قول بھی نقل کیا گیا ہے کہ حضرت ادریس حضرت نوح علیہ السلام کے جد امجد تھے ۔ اور باب ۵ میں آیت وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا (مریم: (۵۸) بھی نقل کی گئی ہے۔ باب ۴ - ا کے تحت کوئی روایت نہیں اور باب ۵ کے تحت جو روایت درج ہے وہ معراج سے متعلق ہے جو ایک لطیف اور اہم مکاشفہ ہے اور کتاب الصلوۃ بابا میں گزر چکی ہے۔ یہاں باب ۵ کے تحت ایک دوسری سند سے وہی روایت دہرائی گئی ہے۔ اس میں حضرت الیاس نبی علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا ذکر نہیں۔ بلکہ حضرت ادریس نبی علیہ السلام کی ملاقات کا ذکر ہے۔ باب کا اس روایت سے تعلق تو ظاہر ہے لیکن امام بخاری کا حسن تصرف ملاحظہ ہو۔ اوّل حضرت الیاس کے ذکر میں حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس کے قول کا حوالہ دیا ہے کہ وہ اور حضرت اور لیس دونوں نام ایک ہی نبی کے ہیں۔