صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 192 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 192

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۹۲ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عِيسَى ثُمَّ مَرَرْتُ عیسیٰ کے پاس سے گزرا۔ انہوں نے کہا: خوشی سے بِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ آئیں یہ نیک نبی اور نیک بھائی۔ میں نے پوچھا: یہ کون وَالِابْنِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ ہیں ؟ انہوں نے کہا: یہ کیسی ہیں۔ پھر میں حضرت ابراہیم کے پاس سے گزرا اور انہوں نے کہا: خوشی سے آئیں هَذَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمِ یہ نیک نبی اور یہ نیک بیٹے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَيَّةَ الْأَنْصَارِيَّ انہوں نے کہا: یہ ابراہیم ہیں۔ ابن شہاب کہتے تھے: كَانَا يَقُوْلَانِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مجھے (ابوبکر ) ابن حزم نے بتایا کہ حضرت ابن عباس اور وَسَلَّمَ ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ حضرت ابوحیہ انصاری دونوں کہتے تھے: نبی ﷺ نے لِمُسْتَوَى أَسْمَعُ صَرِيْفَ الْأَقْلَامِ قَالَ فرمایا: پھر مجھے اوپر لے گئے۔ یہاں تک کہ میں ایک ہموار جگہ پر چڑھ گیا جہاں میں قلموں کے لکھنے کی آواز ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ سنتا تھا۔ ابن حزم اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہا عَنْهُمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہا نبی صلی الہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ پھر اللہ نے مجھ پر وَسَلَّمَ فَفَرَضَ اللهُ عَلَيَّ خَمْسِيْنَ پچاس نمازیں فرض کیں اور انہیں کو لے کر واپس آگیا۔ صَلَاةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ یہاں تک کہ جب حضرت موسی کے پاس سے گزرنے بِمُوسَى فَقَالَ مُوسَى مَا الَّذِي فُرِضَ لگا تو حضرت موسی نے پوچھا: آپ کی امت پر کیا فرض کیا گیا ہے؟ میں نے کہا: اس پر پچاس نمازیں فرض کی عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ ہیں۔ انہوں نے کہا: اپنے رب سے واپس جا کر نظر ثانی خَمْسِيْنَ صَلَاةً قَالَ فَرَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ کرائیں ۔ کیونکہ تمہاری امت اتنی طاقت نہیں رکھے أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَجَعْتُ گی۔ چنانچہ میں لوٹا اور میں نے اپنے رب سے نظر ثانی فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا کے لئے کہا۔ اس پر اس نے نصف حصہ کم کر دیا اور میں فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ رَاجِعْ حضرت موسی کے پاس واپس آیا۔ پھر انہوں نے کہا: رَبَّكَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا اپنے رب سے نظر ثانی کراؤ۔ چنانچہ آپ نے پھر اسی طرح سے ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے کچھ حصہ نمازیں کم فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ کر دیں۔ پھر میں حضرت موسی کے پاس واپس آیا اور رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيْقُ ذَلِكَ انہیں بتایا۔ انہوں نے کہا: واپس جا کر اپنے رب سے