صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 189
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۸۹ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء بَاب ٤ : وَإِنَّ الْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ (الصافات: ١٢٤) اور الیاس بھی ان لوگوں میں سے ہے جنہیں پیغام پہنچانے کے لئے بھیجا گیا تھا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَلَا تَتَّقُوْنَ إِلَى جب اس نے اپنی قوم سے کہا: تم اللہ کی ناراضگی سے بچتے وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ) کیوں نہیں؟ کیا بعل کو تم پکارتے ہو اور اسے چھوڑتے ہو جو بہترین پیدائش کرنے والا ہے۔ اللہ تمہارا رب ہے اور (الصافات: ١٢٥ - ١٣٠) تمہارے ان باپ دادوں کا رب ہے جو پہلے تھے۔ لیکن انہوں نے اسے جھٹلایا، اس لئے ان کو جواب دہی کے لئے حاضر کیا جائے گا۔ مگر اللہ کے ان بندوں کو نہیں پیش کیا جائے گا جنہیں گناہوں سے پاک صاف کیا ہوگا اور ہم نے الیاس کے ذکر کو بعد میں آنے والوں میں باقی رکھا۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُذْكَرُ بِخَيْرٍ ۔ حضرت ابن عباس نے کہا: یعنی ان کا ذکر خیر ہوتا رہے گا۔ سَلِّمُ عَلَى إِلْ يَاسِينَ إِنَّا كَذَلِكَ الياس سے تعلق رکھنے والوں پر سلامتی ہو۔ ہم اسی نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا طرح اچھے کام کرنے والوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔ وہ الْمُؤْمِنِينَ ) (الصافات: (۱۳۱-۱۳۳) ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ يُذْكَرُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت الیاس ہی حضرت اور لیں ہیں۔ أَنَّ إِلْيَاسَ هُوَ إِدْرِيسُ۔ باب ٥ : ذِكْرُ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان وَهُوَ جَدُّ أَبِي نُوحٍ وَيُقَالُ جَدُّ نُوحٍ اور وہ حضرت نوح کے والد کے دادا تھے۔ اور یہ بھی کہا عَلَيْهِمَا السَّلَامُ۔ وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى جاتا ہے کہ وہ حضرت نوح علیہما السلام کے دادا تھے۔ وَرَفَعْتُهُ مَكَانًا عَلِيًّا (مريم : ٥٨) اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ہم نے اس کو بلند مرتبہ دیا۔