صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 188
صحيح البخاری جلد ٦ ١٨٨ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء جولوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں ، وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔یہ خدا کا ہاتھ ہے، ط ان کے ہاتھوں پر۔(دیکھئے سرورق کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹) اس کتاب میں خالص اسلامی تعلیم کی دعوت ہے اور بنی نوع انسان کے لئے اس عالمگیر عذاب الہی سے نجات کی ضمانت ہے جس کا نوح ثانی کے ذریعہ سے تمام قوموں کو برملا انذار کیا گیا ہے۔قرآن مجید قصوں کی کتاب نہیں۔اگر قصہ خوانی ہی کسی دینی کتاب کی زینت ہو سکتی ہے تو ہندومت کی پوتھیاں اور صحف یہود و عیسائیت کو سب ادیان پر سبقت ہوگی۔قرآن مجید میں جس قدر قص بیان ہوئے ہیں ان میں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ قرآن مجید میں انبیاء کے نقص سے متعلق ان الفاظ میں صراحت ہے : وَقَالُوا اَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا هِ قُلْ انْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِى السَّمواتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا (الفرقان : ۶، ۷) اور وہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو پہلوں کی باتیں ہیں جو اس نے ( کسی سے ) لکھوالی ہیں اور اب وہ صبح و شام اس کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔( تاکہ وہ قرآن اچھی طرح لکھ لے ) تو کہہ دے کہ اس (قرآن) کو تو اُس (خدا) نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں سے واقف ہے۔وہ بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔پھر فرماتا ہے: لقد كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولى الأَلْبَابِ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرى وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ٥ (يوسف : (۱۱۲) یعنی ( ان لوگوں ) کے ذکر میں عقل مندوں کے لئے ایک عبرت کا نمونہ موجود) ہے۔یہ ایسا کلام (ہرگز) نہیں ہے جو (اپنے پاس سے ) گھڑا گیا ہو۔بلکہ ( یہ ) اپنے سے پہلے ( کلام الہی کی پیشگوئیوں) کو کامل طور پر پورا کرنے والا ہے اور ہر بات کی پوری تفصیل بیان کرنے والا ہے اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔انبیاء علیہم السلام کے واقعات سے متعلق قرآن حکیم کی مذکورہ بالا خصوصیت کہ ان کے ذکر میں عبرت، تصدیق، تفصیل، ہدایت اور رحمت ہے اور وہ انباء الغیب پر مشتمل ہے، قرآن مجید میں بار بار بیان ہوئی ہے اور امام بخاری جیسے فہیم و بصیر کی نظر باریک بین سے مخفی نہیں رہ سکتی تھی۔مذکورہ بالا روایات کی ترتیب قصداً اختیار کی گئی ہے جس میں مفسرین کا مالوف طریق بیان بالکل نظر انداز ہے اور کتاب الفتن کی روایات حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں بلا وجہ نہیں لائی گئیں۔جس خصوصیت قرآن مجید کا اوپر ذکر ہوا ہے اس سے متعلق دیکھئے سورۃ آل عمران آیت نمبر ۴۵ ، سورۃ ھود آیت نمبر ۱۲۴۱۲۱،۵۰۔خود امام موصوف نے حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں ان آیات کا حوالہ دیا ہے جن میں قرآن مجید کی مذکورہ بالا خصوصیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔