صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 187
صحيح البخاری جلد 4 ۱۸۷ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء چوتھی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سید الناس اور شفیع بنی آدم ہونے کا ذکر ہے۔کتاب الرقاق، بَاب صِفَةُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ کے تحت آپ کے مقام محمود کا ذکر آئے گا جس کی وجہ سے آپ سید الناس ٹھہرے۔پانچویں روایت میں سورۃ القمر کی آیات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔جن میں حضرت نوح علیہ السلام اور دیگر انبیاء کے ذکر میں فَهَلْ مِنْ مُدَّ کر کے الفاظ کا تکرار ہے۔یعنی کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟ سورۃ القمر میں اقتراب الساعۃ اور انشقاق القمر کی پیشگوئی ہے جس کے تعلق میں فرماتا ہے: يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَى شَيْءٍ نُكْرٍ (القمر :) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، ایسا وائی حق مبعوث ہو گا جو تمام دنیا کے لئے نذیر ہوگا۔جس کے سامنے آنکھیں جھک جائیں گی۔لوگ قبروں سے نکل آئیں گے اور سارا جہاں ایک شدید عذاب الہی کی گرفت میں ہوگا۔جس سے انہیں ہوش آ جائے گا اور وہ انبیاء کی دعوت حقہ کے شناسا ہوں گے۔يَوْمٌ عَسِر کا تعلق اس دنیا کے عذاب سے ہے اور قبروں سے نکلنے والے روحانی مردے ہیں۔آیا اس عذاب شدید کا تعلق اس دنیا سے ہے، یہ سیاق کلام سے ظاہر ہے کیونکہ اس سورۃ میں انبیاء علیہم السلام کے زمانے سے متعلق جن عذابوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ اسی دنیا سے تعلق رکھنے والے تھے نہ کہ موت کے بعد حیاۃ آخرت سے تعلق رکھنے والے۔انشقاق القمر اور اقتراب الساعۃ کی پیشگوئی کے تعلق میں دیکھئے کتاب الرقاق، باب ٣٩ قَوْلُ النَّبِي عله بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ نیز باب ۴۶ قَوْلُهُ عَزَّوَجَلَّ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظیم۔دجال کے زمانہ میں ایک قیامت برپا ہونے کی پیشگوئی ہے جسے علماء اسلام نے قیامت صغری قرار دیا ہے۔ساری دنیا کی قومیں ایک دوسری سے ایسا تعلق رکھیں گی جیسے ایک علاقہ کے باشندے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں۔شدت تپش کا یہ حال ہوگا کہ جیسے سورج قریب ہو اور تمام قو میں ایک محشر نار کا نظارہ دیکھیں گی اور عذاب الہی کی شدت سے نڈھال ہو کر بے اختیار پکار اٹھیں گی: هَذَا يَوْمٌ عَسِرٌ (القمر:۹) اس وقت اگر نجات کا سامان ہوگا تو صرف دعوت اسلام کے قبول کرنے میں ہوگا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاریؒ حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں دجال سے متعلق روایتیں بلا وجہ نہیں لائے اور پھر اس ذکر کے ضمن میں بالآ خر سورة القمر کی آیت فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِر (القمر: ۱۶) کا حوالہ دیا ہے۔جس کا تعلق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے ہے۔بظاہر یہ آخری روایت بے جوڑ سی معلوم ہوتی ہے تا وقتیکہ آیت وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ (البقرة : ۱۴۴) والی روایت اور اس سے ماقبل فتنہ دجال والی روایتوں اور شفیع الناس والی روایت سے اس کا تعلق نہ ہو۔در حقیقت ان کا تعلق آپس میں یہ ہے کہ فتنہ دجال کو قلع قمع کرنے والے داعی حق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا " لقب بھی نوح ہے اور آپ کو بھی حضرت نوح علیہ السلام کی طرح ان الفاظ سے خطاب ہوا ہے:۔اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا - إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ۔یعنی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا۔