صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 186
صحيح البخاری جلد 4 JAY ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء ط مقصد کے پیش نظر یہ سوال نہیں کہ ہلاک شدہ قوموں میں ان کے معبودان کے کیا نام تھے۔جو نام تھے وہ معنا وہی تھے جو اصنام عرب کے تھے اور یہ ضروری نہیں کہ عربوں کے ہاں جو نسر نامی معبود تھا، اس نام سے قوم نوح کے معبود کا بھی نام ہو۔مگر اس میں شبہ نہیں کہ اس نام سے دوستارے ہیں۔اَلنَّسْرُ الطَّائِرِ اور النَّسْرُ الْوَاقِع۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کو اکب پرست تھی۔جس کا ذکر باسلوب طنزیہ کلام سورۃ الانعام آیات ۷ ۷ تا ۷۹ میں وارد ہوا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں یہ مد نظر رہے کہ طوفان نوح کے عالمگیر ہونے کا خیال سوائے روایتی خیال کے کچھ حقیقت نہیں رکھتا اور اس بارہ میں تاریخ عالم سے حوالہ جات کی تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر سورۃ ھود صفحہ ۱۹۸ تا ۲۰۲۔مذکورہ بالا آیات کا حوالہ عنوان باب میں دینے کے بعد اس کے تحت پانچ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔پہلی اور دوسری روایت میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے فتنہ دجال سے ڈرایا اور میں بھی ڈراتا ہوں۔اس کی علامت یہ ہے کہ وہ کانا ہوگا اور اس کے ساتھ جنت و نار ہوگی۔یہ روایتیں قدرے زیادتی کے ساتھ کتاب الفتن باب ۲۶ میں بھی آئیں گی۔وہاں ان کی تفصیل ملاحظہ ہو۔یہاں جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ کہ دجال شریعت الہیہ کے مخالف ہوگا اور قرآن مجید کے بیان سے ظاہر ہے کہ سب سے پہلے صاحب شریعت حضرت نوح علیہ السلام تھے۔حضرت آدم علیہ السلام سے آغاز ہوا تھا اور ان کو شریعت نہیں دی گئی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَضَى بِهِ نُوحًا وَّالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الذِينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ (الشوری: ۱۴) اللہ نے تمہیں (اصولی طور پر ) وہی دین دیا ہے جس کی تاکید اس نے نوح کو کی تھی اور جو ہم نے اب تجھ پر ( قرآن کے ذریعہ سے ) اُتارا ہے اور جس کی تاکید ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسی کو کی تھی اور وہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو دنیا میں قائم کرو اور اس (یعنی دین) کے بارہ میں اختلاف کبھی نہ کرو۔مشرکوں پر وہ تعلیم بڑی گراں گزرتی ہے جس کی طرف تو ان کو بلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی دشمن شریعت دجال کے شر سے آگاہ فرمایا ہے، قیاس چاہتا ہے کہ دوسرے انبیاء کو بھی ضرور آگاہ کیا ہوگا۔کیونکہ ان سب کا نصب العین ایک ہے اور اس نصب العین کے عدق اکبر سے ہوشیار رکھنا از بس ضروری تھا۔تیسری روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ امت محمدیہ تمام اقوام عالم سے متعلق شہادت دے گی کہ انبیاء نے انہیں تبلیغ حق کی۔اسی شہادت کی وجہ سے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خَاتَمُ النَّبِيِّين ملقب فرمائے گئے ہیں۔خاتم ( یعنی مہر ) سے شہادت کا کام لیا جاتا ہے۔آپ کے نام اور آیت لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ سے پایا جاتا ہے کہ تمام اقوامِ عالم کو دین اسلام کی جو انبیاء علیہم السلام کا دین ہے تبلیغ کی جائے گی اور انہیں دعوت اسلام لا محالہ قبول کرنی پڑے گی۔جیسا کہ یسعیاہ علیہ السلام کی کتاب کے باب ۹ ( آیت ۶) میں آخری موعود صاحب شریعت کو سلامتی کا شہزادہ و ابدیت کا باپ کہا گیا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے دیا چہ تفسیر القرآن، پانچویں پیشگوئی صفحہ ۸۱ تا ۹۳۔اس پیشگوئی میں صراحت ہے کہ ساری قوموں کے لئے جھنڈا کھڑا کیا جائے گا۔(یسعیاہ باب ۵ آیت ۲۶)