صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 185 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 185

صحيح البخاري - جلد 4 ۱۸۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء دوسری آیت جس کا ذکر روایت سے قبل کیا گیا ہے، یہ ہے: وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَا نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ يَقَوْمٍ إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَّقَامِي وَتَذْكِيرِى بِايَتِ اللهِ فَعَلَى اللهِ تَوَكَّلْتُ فَاجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَ كُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةٌ ثُمَّ اقْضُوا إِلَى وَلَا تُنظِرُونَ فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُمْ مِّنْ أَجْرٍ * إِنْ أَجْرِى إِلَّا عَلَى اللهِ * وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ (یونس : (۷۳۷۲) اور تو انہیں نوح کا حال بھی سنا۔کیونکہ اس نے ( بھی ) اپنی قوم سے کہا تھا (کہ) اے میری قوم! اگر تمہیں میرا ( خداداد ) مرتبہ اور اللہ کے نشانوں کے ذریعہ سے تمہیں ( تمہارا فرض ) یاد دلانا دو بھر اور ناگوار گزرتا) ہے تو تم اپنے تجویز کردہ شریکوں سمیت اپنی بات ( سے متعلق سب پختہ سامان ) جمع کرلو ( اور ) نیز چاہیے کہ تمہاری بات تم پر ( کسی پہلو سے ) مشتبہ نہ رہے۔پھر اسے مجھ پر نافذ کر دواور مجھے کوئی موقع اور ) مہلت نہ دو۔پھر بھی اگر تم پھر جاؤ تو اس میں میرا کوئی نقصان نہیں بلکہ تمہارا ہی ہے ) کیونکہ میں نے تم سے (اس کے بدلہ میں ) کوئی اجر نہیں مانگا۔میرا اجر اللہ کے سوا اور کسی پر نہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کے ) کامل فرماں برداروں میں سے ہوں۔آيَاتِ إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوْحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرُ قَوْمَكَ۔۔۔(نوح : ۱تا۲۹) جن کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت حق اور انذار کا ذکر ہے اور قوم کے معبودان باطلہ وڑ، سُواع، یغوث ، یعوق اور نسر کا ذکر ہے۔جس سے قوم نوح کے عقائد کا علم ہو سکتا ہے۔مشرکین عرب کے ہاں انہی ناموں کے بت تھے۔ستاروں کے اس قسم کے نام باعتبار برج یعنی ان کی منزلوں کے لحاظ سے تھے۔آج تک برج اور ستارے حیوانوں کے نام سے موسوم ہیں۔مثلاً دب اکبر ( Great Bear) ، دب اصغر ( Small Bear) وغیرہ۔ان میں ایک سیارے کا نام عقرب ( بچھو ) بھی ہے۔جسے انگریزی میں Scorpion کہتے ہیں۔بت پرست قومیں ان سیاروں کو خدا مجھتی تھیں اور ان کے نام سے بت بنائے جاتے تھے۔جنہیں قاضی الحاجات یقین کرتے اور ان کی پرستش کی جاتی تھی۔مذکورہ بالا ناموں سے یہ دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کہ قوم نوح کے بتوں کے ہو بہو یہی نام تھے۔ان کی زبان بالکل الگ تھی۔حضرت نوح علیہ السلام کا زمانہ چار ہزار سال پہلے کا ہے۔تمام تو ہم پرست مشرک اقوام عالم میں باوجود بعد مکان و زبان ستارہ پرستی اور بت پرستی سے متعلق مماثلت پائی جاتی ہے۔ہندو اقوام کو دیکھ لیں کہ ان میں ستارہ پرستی کو بہت بڑی اہمیت حاصل رہی ہے اور برجوں کے حساب سے زائچہ اور فال لینے کا رواج ان کے ہاں اب تک ہے اور ہزاروں برس سے سیاروں اور برجوں کے ایک ہی نام چلے آ رہے ہیں۔عرب اور کلدانی، آسوری ، آرامی فینیقی اور کنعانی وغیر ہ سامی النسل قو میں تھیں۔ان کے درمیان تعلقات تھے۔ہیل، اساف اور نائلہ نامی سامی قوموں کے بت تھے۔جن کی پرستش عمرو بن لھی وغیرہ نے قریش میں رائج کی۔(کتاب المناقب، باب ۹) علاوہ ازیں سب سے زیادہ قابل توجہ و اہمیت قرآن مجید کا مخصوص اسلوب ہے جو نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔انبیاء علیہم السلام کے ذکر میں اصل مقصود عہد نبوی کے خیالات باطلہ کی اصلاح ہے نہ کہ سابقہ اقوام کے حالات کا ذکر۔اس