صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 184
صحيح البخاری جلد 4 ۱۸۴ ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء مذکورہ بالا آیت میں جودی پہاڑ پر سفینہ نوح کے ٹھہرنے کا ذکر ہے۔مجاہد نے عراق عرب کے سلسلہ کوہستان کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کا نام جودی بتایا ہے جو دو آبہ دجلہ و فرات کے درمیان شمال مشرق میں واقع ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحہ ۲۱۸) توریت میں اس علاقہ کا نام اراراط مذکور ہے۔چنانچہ پیدائش باب ۸ ( آیت ۳) میں آتا ہے اور ساتویں مہینے کی سترھویں تاریخ کو کشتی اراراط کے پہاڑوں پر تک گئی۔اس سے ظاہر ہے کہ اراراط علاقے کا نام ہے جو فرات ودجله بجانب شمال دیار بکر تک ممتد ہے اور یہ سلسلہ کو ہستان عراق اور آرمینیا کے درمیان حد فاصل ہے۔کلدانی قوم کی قدیم روایات میں بھی سفینہ نوح کا ذکر پایا جاتا ہے۔پہاڑ کا یونانی نام Gordyoei ہے جس کا عربی تلفظ جودی ہے۔عیسائیوں نے حسب عادت وہاں ایک دیر اور معبد بھی سفینہ نوح کے نام سے تعمیر کیا ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ ہر قل شاہ روم بھی اس کی زیارت کے لئے وہاں گیا تھا۔زیارت گاہ وہیکل ” الجودی پہاڑ کے نام سے مشہور تھے۔مجاہد کی شرح میں الجودی کا محل وقوع خیالی نہیں بلکہ قدیم تاریخ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔مسیحی روایات میں تو یہاں تک ہے کہ وہاں گڈریوں وغیرہ نے سفینہ نوح کی تختیوں کے ٹکڑے پائے اور ان سے کاٹ کر تعویذ استعمال کیے۔آثار قدیمہ سے متعلق اکتشافات نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں اور غاروں میں دریائی جانوروں کے پنجر پائے ہیں جس سے انہیں تعجب ہوا اور قیاس کیا ہے کہ طوفانِ نوح کی بلند لہروں کے بہاؤ نے دریائی جانور وہاں پھینکے یا وہاں قدیم زمانے میں سمندر تھا اور آتش فشانی کے نتیجے میں تہہ سمندر کے پہاڑ زمین پر اُبھر آئے اور ان کے ساتھ آبی جانور بھی۔یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔ان سے اس وقت تک کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔روایات سے جو یقینی بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت کا تعلق دو آبہ فرات ودجلہ کی سرزمین اور اس کی قوم سے ہے اور وہیں طوفان آیا اور اسی علاقہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر سفینہ نوح ٹھہری اور پانی خشک ہونے پر نئے سرے سے آبادی ہوئی اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں وہ پہاڑ جو دی نام سے مشہور تھا جس کا یونانی تلفظ Gordyoei ہے۔كَدَابِ الِ فِرْعَوْنَ : دَاب کے معنی ہیں حال۔فریابی نے لفظ داب کے یہ معنی مجاہد سے نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۱ صفحه ۴۴۹ ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کا بھی وہی حال ہو گا جو آل فرعون اور ان سے قبل کے منکرین کا ہوا۔پوری آیت مع سیاق یہ ہے : إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا وَأُولئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ ٥ كَدَابِ الِ فِرْعَوْنَ * وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذَّبُوا بِايْتِنَا ، فَأَخَذَهُمُ اللهُ بِذُنُوبِهِمْ * وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ (آل عمران (۱۲،۱۱) یعنی جو لوگ کافر ہیں ان کے اموال اور ان کی اولا دیں اللہ کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نہیں آئیں گی اور یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ان کا طریق عمل فرعون کے اتباع اور ان لوگوں کے طریق کے مطابق ہے جو ان سے پہلے تھے۔انہوں نے ہمارے نشانات کو جھٹلایا تھا۔اس پر اللہ نے ان کے قصوروں کے بدلہ انہیں پکڑ لیا اور اللہ کا عذاب سخت ہوتا ہے۔ط - ط