صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 183 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 183

صحيح البخاری جلد ٦ IAM ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء ان میں سے ہر ایک گروہ کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے وہ نمایاں کیا گیا ہے۔اس شرح بخاری میں امام موصوف کے مقاصد ہی نمایاں کئے جائیں گے جو ابواب کا موضوع ہیں۔سورۃ ھود کی محولہ بالا آیات میں مشکل الفاظ کے مندرجہ ذیل معانی مروی ہیں۔اولاً آیات علی حسب ترتیب یہ ہیں : ا - فَقَالَ الْمَلَاءُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَكَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا وَمَا نَرَكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمُ اَرَاذِلْنَا بَادِيَ الرَّأْي : وَمَا نَرى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمُ كَذِبِينَ (هود: ۲۸) (ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : پس اس کی قوم میں سے اُن سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر کیا کہ ہم تو تجھے محض اپنے جیسا ہی ایک بشر دیکھتے ہیں۔نیز ہم اس کے سوا تجھے کچھ نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں نے تیری پیروی کی ہے وہ بادی النظر میں ہمارے ذلیل ترین لوگ ہیں اور ہم اپنے اوپر تمہاری کوئی فضیلت نہیں مجھے بلکہ تمہیں جھوٹے گمان کرتے ہیں۔} ٢ - حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّورُ " قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ۔۔۔(هود: (۴۱) ترجمه: یہاں تک کہ جب ہمارا (عذاب کا ) حکم آ جائے اور چشمے پھوٹ کر بہہ پڑیں تو ہم کہیں گے کہ ہر ایک ( قسم کے جانوروں ) میں سے ایک جوڑا یعنی دو (ہم جنس جوڑوں) کو اور اپنے اہل وعیال) کو (بھی) سوائے اس (فرد) کے جس ( کی ہلاکت) کی نسبت (اس عذاب کے آنے سے پہلے (ہی ہمارا قطعی ) فرمان جاری ہو چکا ہے اور نیز ان کو جو تجھ پر ایمان لائے ہیں ، اس میں سوار کرا دے اور اس پر سوائے قلیل تعداد کے کوئی ایمان نہ لایا تھا۔لا ٣- وَقِيلَ يَاَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَسَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ۔۔۔(هود: ۴۵) ترجمه: اس کے بعد (زمین سے بھی) کہہ دیا گیا (کہ) اے زمین! تو (اب) اپنے پانی کو نگل جا اور (آسمان سے بھی ) اے آسمان ! ( اب تو بر سنے سے ) تھم جا اور پانی جذب کر دیا گیا اور یہ معاملہ ختم کر دیا گیا اور وہ کشتی جودی پر ( جا کر ٹھہر گئی اور کہہ دیا گیا کہ (اے عذاب کے فرشتو) ظالم لوگوں کے لئے ہلاکت مقدر کردو۔حضرت ابن عباس نے اس آیت میں بادِی الرَّأْي کے معنے کئے ہیں جیسا کہ ظاہر ہے، آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے کہ رذیل لوگ تیرے پیرو ہیں۔اعلیٰ پایہ کے لوگ تجھے مانتے تو یہ سمجھا جاتا کہ تجھ میں غیر معمولی قابلیت ہے۔دونوں باتیں کہ تو ہمارے جیسا انسان ہے اور تجھے مانے والے معمولی طبقہ کے لوگ ہیں۔کھلی حقیقت ہے جس سے ظاہر ہے کہ تجھے ہم پر کوئی فضیلت نہیں کہ تجھے راستباز سمجھا جائے۔بلکہ ہمارا یقین ہے کہ تو اور تیرے ماننے والے سب جھوٹے ہیں۔اس آیت میں چار باتیں بیان ہوئی ہیں جو ہر رسول سے کہی جاتی ہیں اور وہ ان کی تکذیب کے لئے مخالفین کی طرف سے بطور دلیل پیش ہوتی ہیں۔امام ابن ابی حاتم نے عطاء بن ابی رباح کی سند سے حضرت ابن عباس کی مذکورہ بالا شرح نقل کی ہے۔اور انہی سے اقلعي کے معنی امسكي اسی سند سے مروی ہیں۔یعنی اے بادل برسنے سے تھم جا۔اور فَارَ التَّنُّور کے معنے ہیں سطح زمین کے سوتے ابل پڑے۔تنور کے یہ معنی ابن جریر نے عکرمہ سے بسند ابی اسحاق موصولاً نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۴۴۹)