صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 182
البخاری جلد ٦ IAN ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء حکم الہی کو نہیں توڑا۔اس میں شک نہیں کہ آدم حکم الہی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا مگر اس کا ارادہ نہ تھا کہ خلاف ورزی کرے بلکہ بھول کر ایک ایسا فعل اس سے ہو گیا جس کا نتیجہ ایک حکم الہی کی خلاف ورزی تھا۔اس لئے خواہ ہم نتیجہ کو عصیان ہی کہیں مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ آدم اس میں بے قصور تھا اور آدم کا گناہ اس کو نہیں کہا جاسکتا۔اس میں ارادہ کی جزو جو گناہ کے لئے نہایت ضروری ہے، بالکل مفقود ہے اور خود خدا تعالیٰ اس معاملہ میں آدم کے گناہ کی نفی کرتا ہے۔“ ریویو آف ریجنز ، جولائی ۱۹۰۲، جلد ۲ نمبرے صفحہ ۲۵۶) رہی انبیاء کی شفاعت سے متعلق معذرت تو یہ ان کی بھول چوک سے متعلق شدت احساس کی دلیل ہے۔امام بخاری نے کتاب الانبیاء میں حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر سے باب ۳ قائم کیا ہے جس کے تحت پانچ روایتیں منقول ہیں۔عنوانِ باب میں آیت وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوْحًا إِلَى قَوْمِهِ کا حوالہ دیا ہے۔جس سے سورہ ھود کا تیسرا رکوع شروع ہوتا ہے اور دو رکوعوں میں ان کی بعثت ورسالت اور قوم کی طرف سے مخالفت اور اس کے بد انجام کا ذکر ہے۔محولہ بالا آیات کا اسلوب بیان تاریخی نہیں جو بعض تفاسیر میں اختیار کیا گیا ہے اور شارحین فتح الباری و عمدۃ القاری نے ان کے بعض اقوال نقل کئے ہیں جن کی زیادہ تر بنیاد عہد نامہ قدیم کے بیانات پر ہے۔دیکھئے فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۴۹، عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۲۱۶، ۲۱۷ - پیدائش باب ۵ نیز باب ۹ آیات ۲۸، ۲۹۔امام بخاری نے وہ اقوال نظر انداز کر کے قرآن مجید و مستند احادیث تک ہی اپنے آپ کو محدود رکھا ہے جو محفوظ صورت ہے۔قرآن مجید نے انبیاء علیہم السلام کے ذکر میں عقیدہ توحید سے متعلق ان کی اصولی تعلیم ، عبودیت الہی ، شفقت علی خلق اللہ اور ان کے صبر آزما عزم و استقلال اور تحمل مصائب میں ان کی یگانگت و مماثلت اور ان کی قوموں کے فساد اخلاق اور شدید معاندانہ رویے میں ان کی باہمی مشابہت اور ان کے عبرتناک انجام کو بیان فرمایا ہے جو اصل مقصود ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کے حالات سے متعلق جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں انہی آٹھ امور کا ذکر کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی اور آپ کے مخالفوں کی ناکامی کے بارے میں پیشگوئی سورہ ھود کے چوتھے رکوع کے آخر میں بایں الفاظ کی گئی ہے: تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيْهَا إِلَيْكَ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هَذَا فَاصْبِرُ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ (هود: ۵۰) یہ وہ غیب کی اہم خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعہ سے تجھ پر نازل کرتے ہیں۔نہ تو ان کو اس سے پہلے جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔سو تو صبر سے کام لے۔انجام متقیوں کے حق ہی میں ہوتا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کے بیان سے متعلق یہ خاتمہ قرآن مجید کی شان کو واضح طور پر دکھاتا ہے جو تواریخ کے بیان سے ممتاز ہے۔امام بخاری نے حدیث الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُّجَنَّدَةٌ سے تمہید بلا وجہ نہیں اُٹھائی۔انبیاء علیہم السلام کے ذکر میں قرآن مجید کی آیات کو منتخب کیا گیا ہے۔جن میں ارواح طیبہ اور ارواح خبیثہ کے اخلاق وطور و طریق بیان ہوئے ہیں اور