صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 181
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۸۱ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء پڑھنا منع ہے۔ پہلی مشر کا نہ عبادت جو دنیا میں رائج تھی وہ شجر پرستی ہی تھی جس کی اصلاح حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ سے ہوئی اور چند دعائیں ان کو سکھلائی گئیں۔ اور یہ خیال درست نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام صرف ایک ہی حکم لَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ کا دیئے گئے تھے جس کا بُھلایا جانا یا مد نظر نہ رکھنا قابل تعجب ہو۔ (فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَنُ) وه ای طرح شیطان کی وسوسہ اندازی سے بھول گئے جس طرح ہم بھول جاتے ہیں اور قرآن مجید نے صراحت فرمائی ہے: وَلَمْ نَجِدُ لَهُ عَزْمًا (طه: ۱۱۶) کہ ان کا ارادہ گناہ نہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عصمت انبیاء کے تعلق میں فرماتے ہیں :- گناہ کی تعریف یہ ہے کہ گناہ ایک فعل کو اس وقت کہا جائے گا جب کہ ایک انسان اس فعل کے ذریعہ سے خدا کے حکم کو توڑ کر سزا کے لائق ٹھہرے۔ اس صورت میں ضروری ہے کہ گناہ کے صادر ہونے سے پہلے خدا کا حکم موجود ہو اور نیز اس گناہ کے مرتکب کو وہ حکم پہونچ بھی گیا ہو اور نیز اس فعل کے مرتکب کی نسبت عقل تجویز کر سکتی ہو کہ اس فعل کے ارتکاب سے وہ در حقیقت سزا کے لائق ٹھہر گیا ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ ہم ان افعال پر بحث کریں جن کو انبیاء کے گناہ کہا جاتا ہے، اس امر کی طرف ناظرین کو توجہ دلانا ضروری ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو خدا نے ہر ایک قسم کی سزا سے ہمیشہ کے لئے بری ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف سورۃ انبیاء میں صاف الفاظ میں فرماتا ہے : إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنَى * أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ ) لَا يَسْمَعُونَ حَسِيْسَهَا ، وَهُمْ فِى مَا اشْتَهَتُ أَنْفُسُهُمْ خَلِدُونَ ۔ ۔۔۔۔ جن کے لیے ہم نے پہلے سے ہی نیک بدلا مقرر کر رکھا ہے وہ دوزخ سے بہت دور رہیں گے، اس کی آہٹ تک بھی نہیں سنیں گے اور ہمیشہ کے لیے ایسی زندگی بسر کریں گے جو ان کے دل چاہتے تھے۔“ پھر اسی تعلق میں فرماتے ہیں :- ریویو آف ریلیجز ، جولائی ۱۹۰۲، جلد ۲ نمبرے صفحہ ۲۵۵) سورۃ طہ میں حضرت آدم کے قصہ کے ابتداء میں ایک ہی آیت اس فیصلہ کے لیے کافی ہے کہ کس طرح پر حضرت آدم اس عصیان کے مرتکب ہوئے۔ وہ آیت یہ ہے : وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا (طه: ١١٦) ترجمہ: اس سے پہلے ہم نے آدم کو ایک حکم دیا تھا سو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا گناہ پر عزم نہیں پایا۔ اس سے حضرت آدم کی صاف صاف بریت ہوتی ہے کہ انہوں نے عمدا