صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 11 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 11

صحيح البخاری جلد 4 || بَابِ ٢ : مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِيْنَ سات زمینوں کے متعلق جو ( حدیثیں ) آئی ہیں ان کا بیان بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا (الطلاق: ۱۳) وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ (الطور : ٦) السَّمَاءُ سَمْكَهَا (النازعات : ٢٩) ۵۹ - كتاب بدء الخلق وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى : اللهُ الَّذِى خَلَقَ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس سَبْعَ سَمُوتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ نے سات آسمان پیدا کئے اور اتنی ہی زمینیں پیدا کیں۔ان مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ میں اس کا حکم نازل ہوتا رہتا ہے تاکہ تمہیں علم ہو کہ اللہ ہر لِتَعْلَمُوا اَنَّ اللهَ عَلى كُلّ ایک چیز کا اندازہ کئے ہوئے ہے اور یہ کہ اللہ ہر چیز کا اپنے شَيْءٍ قَدِيرٌ وَاَنَّ اللهَ قَدْ اَحَاطَ علم سے احاطہ کر چکا ہے۔(اسی طرح فرمایا: وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوع یعنی اس چھت کی قسم ہے جو بلند کیا گیا ہے۔) اَلسَّقْفِ الْمَرْفُوع سے مراد اوپر کی بلندی ہے۔(پھر فرمایا: رَفَعَ سَمُكَهَا۔یہاں ) سمک سے مراد اس کی عمارت ہے۔( اور فرمایا: وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ) بِنَاءَهَا الْحُبُكِ (الذاريات : ۸ الْحُبُک سے مراد اس بلندی کی اعلیٰ درجہ کی ساخت اور اسْتِوَاؤُهَا وَحُسْنُهَا وَأَذِنَتْ خوبصورتی ہے۔(اور إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، وَأَذِنَتْ الإنشقاق: ۳) سَمِعَتْ وَأَطَاعَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْہ میں ) أَذِنَتْ کے یہ معنی ہیں کہ اس وَالْقَتْ (الإنشقاق : ٥) أَخْرَجَتْ بلندی نے اپنے رب کی بات پر کان دھر کر اسے سنا اور مَا فِيْهَا مِنَ الْمَوْتَى وَتَخَلَّتْ اس کی اطاعت کی اور ( وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ الإنشقاق: (٥) عَنْهُمْ طَحْهَا ( الشمس: (٧) مَا فِيْهَا وَتَخَلَّتْ میں) الْقَتْ اور تَخَلَّتُ سے مراد یہ أَي دَحَاهَا بِالسَّاهِرَةِ (النازعات: ١٥) ہے کہ اس کے اندر جتنے مردے تھے سبھی کو باہر پھینک دیا وَجْهُ الْأَرْضِ كَانَ فِيْهَا الْحَيَوَانُ اور ان سے بالکل خالی ہوگئی۔(اور فرمایا: وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنْهاه وَالْأَرْضِ وَمَا طَحْهَا 0 تو اس آیت میں) نَوْمُهُمْ وَسَهَرُهُمْ۔طحها کے معنی ہیں زمین کو پھیلایا۔(اور یہ جو فرمایا: فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ تو اس میں ) السَّاهِرَة سے مراد سطح زمین ہے جس پر جاندار سوتے بھی ہیں اور جاگتے بھی۔