صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 11 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 11

صحيح البخاری جلد ۲ || ۵۹ - كتاب بدء الخلق بَاب ۲ : مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِيْنَ سات زمینوں کے متعلق جو ( حدیثیں ) آئی ہیں ان کا بیان وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ (الطور : ٦) السَّمَاءُ سَمْكَهَا (النازعات: ۲۹) وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس سَبْعَ سَمُوتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ نے سات آسمان پیدا کئے اور اتنی ہی زمینیں پیدا کیں ۔ ان مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ میں اس کا حکم نازل ہوتا رہتا ہے تا کہ تمہیں علم ہو کہ اللہ ہر لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ ایک چیز کا اندازہ کئے ہوئے ہے اور یہ کہ اللہ ہر چیز کا اپنے شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ علم سے احاطہ کر چکا ہے۔ (اس طرح فرمایا: وَالسَّقْفِ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا (الطلاق: ١٣) المرفوع یعنی اس چھت کی قسم ہے جو بند کیا گیا ہے۔ ) السَّقْفِ الْمَرْفُوعِ سے مراد اوپر کی بلندی ہے۔ (پھر فرمایا: رَفَعَ سَمُكَهَا ۔ یہاں ) سمک سے مراد اس کی عمارت ہے۔ (اور فرمایا: وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ) بِنَاءَهَا الْحُبُكِ (الذاريات: ۸) الْحُبْکِک سے مراد اس بلندی کی اعلیٰ درجہ کی ساخت اور اسْتِوَاؤُهَا وَحُسْنُهَا۔ وَأَذِنَتْ خوبصورتی ہے۔ (اور ہے۔ (اور إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، وَأَذِنَتْ (الإنشقاق: ٣) سَمِعَتْ وَأَطَاعَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ، میں ) أَذِنَتْ کے یہ معنی ہیں کہ اس وَالْقَتْ الإنشقاق : ٥) أَخْرَجَتْ بلندی نے اپنے رب کی بات پر کان دھر کر اسے سنا اور مَا فِيْهَا مِنَ الْمَوْتَى وَتَخَلَّتْ اس کی اطاعت کی اور ( وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ (الإنشقاق : ٥) عَنْهُمْ ۔ طَحُهَا (الشمس: ٧) مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ میں) أَلْقَتْ اور تَخَلَّتُ سے مراد یہ أَي دَحَاهَا بِالسَّاهِرَةِ (النازعات: ١٥) ہے کہ اس کے اندر جتنے مردے تھے بھی کو باہر پھینک دیا وَجْهُ الْأَرْضِ كَانَ فِيْهَا الْحَيَوَانُ اور ان سے بالکل خالی ہوگئی۔ (اور فرمایا: وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنْهَا وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَهَا ، تو اس آیت میں) نَوْمُهُمْ وَسَهَرُهُمْ۔ طحها کے معنی ہیں زمین کو پھیلایا۔ (اور یہ جو فرمایا : فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ تو اس میں ) السَّاهِرَۃ سے مراد سطح زمین ہے جس پر جاندار سوتے بھی ہیں اور جاگتے بھی ۔