صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 10 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 10

صحيح البخاری جلد 4 +1 ۵۹ - كتاب بدء الخلق ہمیں مخاطب فرمایا اور اس خطبہ میں کوئی بات ترک نہ کی جو قیامت تک ہونے والی تھی مگر اس کا ذکر فرمایا۔عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ عالم کو اس کا علم رہا اور جاہل کو اس کا علم نہ رہا اور میں بھی بھول گیا۔مگر جب وقوع میں آتا ہے تو میں وہ بات پہچان لیتا ہوں کہ آپ نے ہمیں بتائی تھی۔(روایت نمبر ۲۶۰۴) یہ روایت مفہوماً محولہ بالا بیان کے مطابق ہے۔امام مسلم اور امام احمد بن حنبل نے بھی اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر منبر پر کھڑے ہوئے اور مغرب تک ہم سے مخاطب رہے۔فَحَدَّثَنَا بِمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا احْفَظْنَا جو ہوا اور جو ہونے والا ہے اس کی نسبت ہم سے باتیں کیں۔ہم میں سے جو زیادہ عالم ہے اسی کو وہ باتیں زیادہ یادر ہیں۔جو پیشگوئیاں پوری ہوگئی ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ علیم وخبیر خالق کائنات نے اپنی مخلوق کے بارے میں کچھ اندازے مقرر فرمائے ہیں۔جن کا علم حسب حالات انبیاء علیہم السلام کو دیا جاتا ہے۔اسی علم کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بَدَءُ الخَلق سے متعلق بیان فرمایا ہے۔بَدءُ الخَلق کے ضمن میں مذکورہ بالا حوالہ سے یہی امر ذہن نشین کرانا مقصود ہے۔يَشْتُمُنِي ابْنُ آدَمَ روایت نمبر ۳۱۹۳ اپنے مفہوم میں واضح ہے کہ مخلوقات میں سب سے زیادہ حفظ اٹھانے والا انسان ہے جو علم و قدرت تسخیر وغیرہ کے لحاظ سے اشرف المخلوقات ہے۔لیکن وہ اپنے مقام سے گرتا اور مخلوق کا پجاری ہو جاتا ہے اور موت تک ہی اپنی زندگی سمجھتا ہے۔اس کے اس عقیدہ شرک اور غیر اللہ کی عبادت سے اس عظمت و اعلیٰ مرتبت کی نفی ہوتی ہے جو خالق نے انسان کو عطا کی ہے اور یہ بات در حقیقت خالق کو گالی دینے کے مترادف ہے کہ وہ ایسا خالق ہو جس کا مشغلہ نہایت ادنی و محدود ہے۔اس روایت کا مضمون سلبی صورت میں ہے۔یعنی باری تعالیٰ کی نسبت ایسا سمجھنا درست نہیں۔باب کی آخری روایت (نمبر ۳۱۹۴) کا مضمون ایجابی (مثبت) ہے۔إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي: یعنی اس جہان میں بعض باتیں مکر وہ نظر آتی ہیں مگر ان پر یکجائی نظر ڈالنے اور غور کرنے سے ثابت ہوگا کہ ان کے پس پردہ اسباب رحمت کارفرما ہیں۔جو مجموعی حیثیت میں انجام کار خیر و برکت پر منتج ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سورۃ ملک میں فرماتا ہے: فَارْجِعِ الْبَصَرَ * هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ ه (الملک: ۳) بار بار غور کرو اور نظر دوڑا کر دیکھو، اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں کہیں بھی تمہیں رخنہ نظر آتا ہے؟ تقدیر الہی نے کائنات عالم کے تمام حلقے ایک ضابطہ قانون سے آپس میں ملا دیئے ہیں۔فقرہ كَتَبَ فِي كِتَابِہ سے قضاء وقدر کا یہی نوشتہ الہی مراد ہے۔فَهُوَعِندَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ : علامہ ابن حجر نے اس جملے کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ نوشتہ تقد مرمخلوق سے پورے طور پر خفی ہے۔وہ فرماتے ہیں : هِيَ إِشَارَةٌ إِلَى كَمَالِ كَوْنِهِ مَخْفِيًّا عَنِ الْخَلْقِ مَرْفُوعًا عَنْ حَيْنِ إِدْرَاكِهِمْ ـ وه ایسا مخفی ہے کہ مخلوق اس کا اور اک نہیں کر سکتی اور وہ انسانی عقل و علم سے بالا ہے۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۳۵۰) کیا (مسلم، كتاب الفتن وأشراط الساعة، باب إخبار النبي عل الله فيما يكون إلى قيام الساعة ) (مسند احمد بن حنبل، مسند الأنصار ، حديث أبي زيد عمرو بن أخطب، جزء ۵ صفحه ۳۴۱)