صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 180 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 180

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۸۰ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ گے ۔ میں عرش کے نیچے جا کر سجدہ کروں گا۔ مجھے کہا عُبَيْدٍ لَا أَحْفَظُ سَائِرَهُ۔ اطرافه: ٣٣٦١، ٤٧١٢ حم جائے گا: محمد ! اپنا سر اُٹھاؤ اور سفارش کرو۔ تمہاری سفارش قبول کی جائے گی اور مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ محمد بن عبید نے کہا: باقی حدیث مجھے یاد نہیں۔ ٣٣٤١: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ ۳۳۴۱: نصر بن علی بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَنْ سُفْيَانَ ابواحمد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان ثوری) عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سے ، سفیان نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اسود يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بن یزید سے، اسود نے حضرت عبداللہ بن مسعود ) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم قَرَأَ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (القمر : ١٦) مِثْلَ نے (سورۃ القمر میں ) فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِر پڑھا جس قِرَاءَةِ الْعَامَّةِ۔ طرح عام لوگ پڑھتے ہیں ۔ اطرافه ٣٣٤٥، 3376، 4869، ٤٨٧٠، ٤٨٧١، ٤۸۷۲ ، ٤٨٧٣، ٤٨٧٤۔ دم علیہ السلام کے بعد تشريح : وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ : انبیاءکے روحانی لشکرمیں سے حضرت آدم علیہا ♡ حضرت نوح علیہ السلام پہلے صاحب شریعت رسول ہیں جو عراق عرب میں اپنی قوم کے لئے مبعوث ہوئے ۔ سورہ مریم کی آیت ۵۹ میں چارا ہم دوروں کا ذکر ہے۔ دور اول حضرت آدم علیہ السلام کا ، دور ثانی حضرت نوح علیہ السلام کا ، دور ثالث حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جو آپ کے پوتے حضرت یعقوب علیہ السلام کے لقب اسرائیل کی وجہ سے اسرائیلی شریعت کے نام سے ممتاز ہے اور اسی سلسلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام وغیرہ انبیاء شامل ہیں اور چوتھے دور کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذریت سے ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکمیل شریعت کے لئے منتخب کیا گیا۔ سلسلہ انبیاء کی یہی ترتیب واقعات تاریخ عالم سے تصدیق پاتی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی نسبت قرآن مجید سے ظاہر ہے کہ انہیں دعائیہ کلمات کی تعلیم دی گئی اور یہ کہ درخت کے قریب جانے سے وہ روکے گئے تھے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر اس کے قریب گئے تو تم ظالم (مشرک) ہو جاؤ گے اور شیطان کہتا ہے کہ تم فرشتوں جیسے ہو جاؤ گے اور تمہیں ابدی زندگی حاصل ہوگی ۔ (الاعراف: ۲۰، ۲۱) اس سے درخت کی نوعیت ظاہر ہے کہ اس کی پرستش کی جاتی تھی۔ قریب جانے کی ممانعت سے حضرت آدم علیہ السلام نے یہ سمجھا کہ اس کا پھل کھانا ممنوع نہیں ۔ اس غلط فہمی سے ٹھوکر کھائی۔ انتہائی احتیاط کا تقاضا تھا کہ پھل نہ کھایا جاتا۔ جیسے سورج نکلنے پر نماز