صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 179 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 179

صحيح البخاری جلد 4 129 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ تم ایسے شخص کو تلاش نہیں کرتے جو تمہارے لئے النَّاسِ أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَأْتُوْنَهُ فَيَقُوْلُوْنَ يَا تمہارے رب کے پاس سفارش کرے؟ بعض لوگ آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ کہیں گے تمہارا باپ آدم ہے اور وہ ان کے پاس بیده وَنَفَخَ فِيْكَ مِنْ رُّوْحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ وَأَسْكَنَكَ الْجَنَّةَ أَلَا آئیں گے اور کہیں گے: اے آدم ! آپ سب انسانوں کے باپ ہیں۔اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور ملائکہ کو حکم دیا اور وہ آپ تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ کے فرمانبردار ہو گئے اور آپ کو جنت میں ٹھہرایا۔کیا فِيْهِ وَمَا بَلَغَنَا فَيَقُوْلُ رَبِّي غَضِبَ آپ ہمارے لئے اپنے رب کے پاس سفارش نہیں غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا کریں گے؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ جس حالت میں ہم ہیں اور جس نوبت کو ہم پہنچے ہوئے ہیں؟ اور وہ يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَنَهَانِي عَنِ کہیں گے : میرا رب اس قدر ناراض ہے کہ اس سے الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُ نَفْسِي نَفْسِي پہلے ایسا ناراض کبھی نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد ایسا اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ ناراض ہوگا اور اس نے مجھے درخت سے روکا تھا مگر فَيَأْتُونَ نُوْحًا فَيَقُوْلُوْنَ يَا نُوحُ أَنْتَ میں نے (اس کی ) نافرمانی کی تھی۔مجھے تو خود اپنی ہی أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَسَمَّاكَ پڑی ہے۔تم کسی اور کے پاس جاؤ۔جاؤ نوح کے اللهُ عَبْدًا شَكُورًا ، أَمَا تَرَى إِلَى مَا پاس۔اور وہ نوح کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے نوح! آپ اہل زمین کی طرف پہلے رسول ہیں اور نَحْنُ فِيْهِ أَلَا تَرَى إِلَى مَا بَلَغَنَا أَلَا اللہ نے آپ کو شکر گزار بندہ فرمایا ہے۔کیا آپ نہیں تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَيَقُولُ رَبِّي دیکھتے کہ جس حالت میں ہم ہیں اور کیا آپ نہیں دیکھتے غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ کہ جس نوبت کو ہم پہنچ گئے؟ کیا اپنے رب کے پاس مِثْلَهُ وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ نَفْسِی آپ ہماری سفارش نہیں کرتے ؟ وہ کہیں گے: میرا رب آج اس قدر ناراض ہے کہ اس سے پہلے ایسا ناراض نَفْسِي ائْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کبھی نہیں ہوا اور نہ ایسا ناراض اس کے بعد ہوگا۔وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَأَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ مجھے تو خود اپنی ہی جان کی پڑی ہوئی ہے تم نبی صلی اللہ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَاشْفَعْ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔چنانچہ وہ میرے پاس آئیں