صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 178
صحيح البخاری جلد 4 IZA ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُوْلُ مُحَمَّدٌ صَلَّى الله ہمارے پاس تو کوئی نبی نہیں آیا۔اس پر اللہ تعالیٰ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتُهُ فَنَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ حضرت نوح سے پوچھے گا: تمہاری کون شہادت دے گا ؟ تو وہ کہیں گے کہ محمد مے اور ان کی امت۔پھر ہم شہادت دیں گے کہ انہوں نے یقینا حق پہنچا دیا تھا اور یہی مراد ہے اللہ جل ذکرہ کے اس قول سے بَلَّغَ وَهُوَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (البقرة: ١٤٤) (وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمُ أُمَّةً وَسَطًا) یعنی اس لئے وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ۔اطرافه: ٤٤٨٧ ٧٣٤٩۔رَضِيَ ہم نے تم کو اعلیٰ درجہ کی امت بنایا ہے کہ تم ان انکار کرنے والوں کے خلاف گواہ ٹھہرو۔اور اس آیت میں وسط کے معنی ہیں مُعْتَدِل۔یعنی اعلیٰ درجہ کی۔٣٣٤٠: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ۳۳۴۰: اسحاق بن نصر نے ہمیں بتایا۔محمد بن عبید نے حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ہم سے بیان کیا کہ ابو حیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ابوزرعہ سے ، ابوزرعہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَعْوَةٍ کے ساتھ ہم ایک دعوت میں تھے کہ آپ کے سامنے فَرُفِعَتْ إِلَيْهِ التِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ بکری کا بازو پیش کیا گیا اور آپ بازو کا گوشت پسند فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً وَقَالَ أَنَا سَيِّدُ فرمایا کرتے تھے۔آپ نے اس سے تھوڑ اسا تناول فرمایا اور فرمایا: میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَلْ تَدْرُوْنَ بِمَنْ ہوں گا۔کیا تم جانتے ہو کہ کس ذریعہ سے اللہ پہلوں يَجْمَعُ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِيْنَ فِي صَعِيدٍ اور پچھلوں کو ایک ہی میدان میں اکٹھا کرے گا کہ وَاحِدٍ فَيُبْصِرُهُمُ النَّاظِرُ وَيَسْمَعُهُم دیکھنے والا ان کو دیکھ لے گا اور بلانے والا ان کو سناتے الدَّاعِي وَتَدْنُو مِنْهُمُ الشَّمْسُ فَيَقُولُ گا۔اور ان سے سورج قریب ہو جائے گا۔اس وقت بَعْضُ النَّاسِ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا أَنْتُمْ فِيْهِ بعض لوگ کہیں گے: کیا تم اپنی اس حالت کو نہیں دیکھتے إِلَى مَا بَلَغَكُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى مَنْ جو تمہاری ہو چکی ہے، جس نوبت کو تم پہنچ چکے ہو؟ کیا عمدۃ القاری میں اس جگہ يُسْمِعُهُمُ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحہ ۲۲۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔