صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 176
صحيح البخاری جلد ۲ ١٧۶ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء انْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ طرف یہ کہ کر بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو اس وقت سے پہلے عَذَابٌ أَلِيمٌ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ہوشیار کر جبکہ ان پر درد ناک عذاب نازل ہو۔۔۔۔۔ (نوح: ۲-۲۹) وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَا نُوحُ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ نیز انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سنا جب اس نے اپنی قوم يُقَوْمِ إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ سے کہا: اے میری قوم! اگر میرا خدا داد مرتبہ اور اللہ کے نشانوں کے ذریعہ تمہیں تمہارا فرض یاد دلانا مَّقَامِي وَتَذْكِيرِى بِايَتِ اللهِ إِلَى قَوْلِهِ ناگوار گزرتا ہے تو یاد رکھو کہ صرف اللہ کی ذات پر ہی مِنَ الْمُسْلِمِينَ (يونس: ۷۲-۷۳) میں بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے تجویز کردہ شریکوں سمیت اپنی بات کے متعلق سب پختگی کے سامانوں کو جمع کر لو اور نیز چاہیے کہ تمہاری بات تم پر کسی پہلو سے مشتبہ نہ رہے۔ پھر اسے مجھ پر نافذ کر دو اور مجھے کوئی موقع اور مہلت نہ دو۔ پھر بھی اگر تم پھر جاؤ تو (اس میں میرا کوئی نقصان نہیں بلکہ تمہارا ہی ہے کیونکہ ) میں نے تم سے اس کے بدلہ میں کوئی اجر نہیں مانگا۔ میرا آجر اللہ کے سوا کسی اور پر نہیں ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کے کامل فرمانبرداروں میں سے بنوں ۔ ۳۳۳۷ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ ۳۳۳۷ : عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَالِمٌ ( بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَامَ روس نے زہری سے روایت کی کہ سالم نے کہا: اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے۔ آپ نے اللہ کی وہ تعریف کی جو اس کے شایان ہے۔ پھر آپ نے ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنِّي لَأُنْذِرُ كُمُوهُ وجال کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: میں بھی تم کو اس سے وَمَا مِنْ نَبِيِّ إِلَّا أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَ ہو شیار کرتا ہوں اور کوئی بھی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَكِنِّي أَقُوْلُ لَكُمْ فِيْهِ اس سے اپنی قوم کو ہوشیار نہ کیا ہو۔ نوح نے بھی اپنی