صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 175 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 175

صحيح البخاري - جلد 1 ۱۷۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء انبیاء علیہم السلام جن کا ذکر اگلے ابواب میں آئے گا، وہ بلحاظ پیدائش ایک ہی زمرہ ابرار سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ان کا عقیدہ ایک اور کردار بھی ایک۔ مذکورہ بالا کلیہ میں روحیں صف آراء فوجیں قرار دی گئی ہیں۔ ان کے درمیان ایک کشمکش جاری ہے۔ شرو خیر میں جنگ ہمارا مشاہدہ ہے اور قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ میں ہی رحمت ربانی پنہاں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے : وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ * وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا مُلَتَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ) (هود: ۱۲۰،۱۱۹) یعنی اگر تیرا رب اپنی ہی مشیت نافذ کرتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت بنا دیتا ( اور چونکہ اس نے ایسا نہیں کیا اور انہیں ان کی عقل پر چھوڑ دیا ہے ) وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔ سوائے ان کے جن پر تیرے رب نے رحم کیا ہے اور اسی رحم ( کا مور د بنانے ) کے لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے اور تیرے رب کا یہ فرمودہ ضرور پورا ہو گا کہ میں جہنم کو یقینا ( ان سب ) جنوں اور انسانوں سے (جو اختلاف کا موجب بنتے ہیں) پر کروں گا۔ معنونہ روایت امام بخاری کی کتاب الأدب المفرد میں د میں منقول ہے۔ یحی بن سعید کے حوالے سے سند کی کمزوری کا ازالہ کیا گیا ہے۔ یہ روایت مسند ابی یعلی میں موصولاً نقل کی گئی ہے۔ ہے ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۴۶ ) باب ۳ : قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوْحًا إِلَى قَوْمِةً (هود: ٢٦) الله عز وجل کا فرمانا: اور یقیناً ہم نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیج چکے ہیں قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَادِيَ الرَّأي (هود: ۲۸) حضرت ابن عباس نے کہا کہ بَادِيَ الرَّأْیِ کے معنی مَا ظَهَرَ لَنَا۔ أَقْلِعِی (هود: ٤٥) ہیں جو ہمارے سامنے ظاہر ہے۔ اقْلِعِي کے معنی أَمْسِكِي۔ وَفَارَ التَّنُّورُ (هود: (٤١) نَبَعَ ہیں تھم جاؤ۔ اور فَارَ التَّنُّورُ کے معنی ہیں پانی پھوٹ الْمَاءُ۔ وَقَالَ عِكْرِمَةُ وَجْهُ الْأَرْضِ پڑا۔ عکرمہ نے کہا: تنور کے معنی ہیں سطح زمین۔ اور وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْجُودِى (هود: ٤٥) جَبَل مجاہد نے کہا: جُودي دوآبہ دجلہ و فرات میں ایک بِالْجَزِيرَةِ۔ دَاب (المؤمن: ۳۲) مِثْلُ حَالِ پہاڑ ہے۔ داب کے معنی ہیں حالت ۔ إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ (اللہ تعالی کا فرمانا: ) ہم نے نوح کو اس کی قوم کی الأدب المفرد للبخاري، باب الأرواح جنود مجندة، روایت نمبر ۹۰۰) (مسند أبي يعلى الموصلي، مسند عائشة، جزء صفحہ ۳۴۴)