صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 174 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 174

صحيح البخاری جلد ٦ ۱۷۴ ۶۰- كتاب احاديث الأنبياء روایت نمبر ۳۳۳۵ کا تعلق جس طرح موجد شر کے ساتھ ہے، اسی طرح بموجب حديث الدال عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ موجد خیر کے ساتھ بھی ہے۔مذکورہ بالا روایتیں احادیث الانبیاء کے تعلق میں بطور تمہید ہیں کہ انبیاء کا وجود خاص تقدیر الہی سے ظہور پذیر ہوتا ہے اور ان کی بعثت کی غرض توحید باری تعالیٰ کا قیام اور شرک و بدی کا استیصال ہے جس کی تخمریزی شیطان کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔باب ۲ : الْأَرْوَاحُ جُنُودَ مُجَنَّدَةٌ روحیں بھی فوجیں ہیں جو الگ الگ دستہ بند ہیں ٣٣٣٦: قَالَ وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ :۳۳۳۶ (امام بخاری نے) کہا: اور لیٹ نے يَحْيَى بْنِ سَعِيْدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ بتایا۔انہوں نے یحی بن سعید (انصاری) سے سجی رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِی نے عمرہ سے ، عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ الْأَرْوَاحُ روایت کی۔کہتی تھیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جُنُودٌ مُّجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا سے سنا۔آپ فرماتے تھے: روحیں بھی فوجیں ہیں جو الگ الگ دستہ بند ہیں۔اس لئے ان میں سے انْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ۔جنہوں نے ایک دوسری کو پہچان لیا، ایک دوسری سے وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي مانوس ہو گئیں۔جنہوں نے نہ پہچانا، انہوں نے آپس نہ میں اختلاف کیا اور يحي بن ایوب نے کہا: بحي بن سعید يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا۔نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی۔تشریح الارواح جنود مجندة : نیک فطرت انسان نیکوں کی صحبت اور بدفطرت بدوں کی صحبت میں سکون پاتا ہے۔طبائع کی اس مماثلت کا مشاہدہ روز مرہ کی بات ہے۔علاوہ ازیں دیکھا گیا ہے کہ بُرا انسان نیکوں کی صحبت میں نیک ہو جاتا ہے۔یہ امر مذکورہ بالا کلیہ کے خلاف نہیں۔کیونکہ انسان کی فطرت میں نیکی ودیعت کی گئی ہے۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِدَانِهِ أَوْ يُنَضِرَانِهِ يعنى جو بھی بچہ اس دنیا میں آتا ہے وہ فطرت صحیحہ لے کر آتا ہے۔بعد ازاں اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔پس نیکی کا یہ پیدائشی میلان صحبت صالحہ سے ابھرتا اور صحبت طالحہ سے مکدر ہوتا ہے۔جو شخص ہمیں بظاہر بد نظر آتا ہے اور پھر نیک صحبت سے اصلاح پذیر ہو جاتا ہے، اس کی روح یقینا ان ارواح میں سے ہے جو فطرتاً استعداد صالح رکھتی ہیں۔(سنن الترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء الدال على الخير كفاعله ) (صحيح البخارى، كتاب الجنائز، باب إذا أسلم الصبي فمات هل يصلى عليه، حدیث نمبر ۱۳۵۸)