صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 173
صحيح البخاری جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء جو قرآن مجید میں وارد ہوا ہے۔علامہ ابن حجر نے لکھا ہے: وَقِيلَ هُوَ ضَرْبُ الْمَثَلِ لِلطَّلَاقِ کہ پہلی سے عورت کی پیدائش کا ذکر بطور ضرب المثل ہے۔اس کی اصلاح پر زیادہ زور ڈالنے سے اندیشہ ہے کہ وہ ٹوٹ جائے گی۔یعنی طلاق ہو جائے گی۔(فتح الباری جزء ۱ صفحہ ۴۴۵) ساتویں اور آٹھویں روایت (نمبر ۳۳۳۲ ۳۳۳۳۰) میں انسانی پیدائش کے ان مدارج کا ذکر ہے جو عام مشاہدہ میں ہیں اور ان سے متعلق علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب بدء الخلق تشریح باب ۶۔روایت نمبر ۳۳۳۳ کا یہ مطلب نہیں کہ خالق اور فرشتے کے درمیان کوئی گفتگو عام بول چال کے طریق پر ہوتی ہے اور اللہ کو ان تغیرات کا علم نہیں ہوتا جو رحم مادر میں ہورہے ہوتے ہیں۔بلکہ عام فہم اسلوب بیان سے ہر کس و ناکس کو سمجھانا مقصود ہے کہ رحم کے اندر کا سلسلہ پیدائش اسی طرح ملگی تصرفات سے تکمیل پاتا ہے جس طرح خارجی عالم کے تغیرات بتوسط ملائکۃ اللہ انجام پارہے ہیں۔باطن رحم میں نامور ملک انہی مشیت کے عین مطابق زندگی کے ہر دور کو مکمل کر سکے حکم کی بجا آوری کا فعلاً اعلان کرتا جاتا ہے۔دونوں روایتوں ( نمبر ۳۳۳۳۳۳۳۲) کا مضمون قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔سورۃ الحج آیت ۶ ، سورة المؤمن آیت ۶۸ سورة القيامة آيات ۳۸-۳۹ سورة العلق آیت ۳، سورة المؤمنون آیات ۲ تا ۵ نیز آیات ۱۳ تا ۱۸ میں جسمانی پیدائش اور روحانی پیدائش کا پہلو بہ پہلو ذکر کر کے چھ درجوں کا ذکر کیا گیا ہے۔جس کی شرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں بالتفصیل بیان فرمائی ہے۔دیکھئے ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۸۵ تا ۲۲۱ - آخری درجہ کمال پر اس حُسنِ کامل کا ظہور مقدر ہے جس کے مظہر اتم سرور کائنات فخر موجودات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ستودہ صفات ہے۔فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔اس مفصل بیان میں ملائکہ اللہ کا جوعمل ہے، وہ بھی واضح کیا گیا ہے۔نویس روایت (نمبر ۳۳۳۴) میں دوزخ کی سزا کا اصل سبب توحید باری تعالی کو نظر انداز کرنا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ انسان کی ساری مصیبتوں کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی پیدائش کی غرض و غایت ملحوظ نہیں رکھتا اور اس کے خلاف چلتا ہے۔توحید کے معنی ہی اپنی مرضی تابع مرضی مولیٰ کرنا ہے۔اسی توحید میں انسان اپنی جنت پاتا ہے اور اسے چھوڑ کر اپنے لئے جہنم بھڑکا تا ہے۔وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ : امام ابن حجر کے نزدیک اس فقرے سے آیت وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمُ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا عَفِلِينَ) (الأعراف: ۱۷۳) کی طرف اشارہ ہے۔{ ترجمہ حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور (یاد کرو) جب تیرے رب نے بنی آدم کی طلب سے ان کی نسلوں (کے مادہ تخلیق ) کو پکڑا اور خود انہیں اپنے نفوس پر گواہ بنا دیا اور پوچھا) کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! ہم گواہی دیتے ہیں۔مبادا تم قیامت کے دن یہ کہو کہ ہم تو اس سے یقینا بے خبر تھے۔}