صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 172
صحيح البخاری جلد ٦ ۱۷۲ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء اس باب کے تحت متعدد آیات و احادیث کا حوالہ اور ان کی شرح بیان کرنے کے بعد گیارہ حدیثیں منقول ہیں۔بعض نسخوں میں آخری حدیث کے لئے الگ عنوانِ باب ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۴۲) پہلی روایت ( نمبر ۳۳۲۶) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے جو معنعن ہے مرفوع نہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کے قدوقامت کی لمبائی اور اس کے بعد اس میں تدریجا کمی کا جو ذ کر اس روایت میں ہے۔امام ابن حجر لکھتے ہیں کہ یہ ایسی مشکل بات ہے جو ابھی تک انہیں حل نہیں ہوئی۔کیونکہ نمود وغیرہ اقوام قدیمہ سے متعلق جو آثار اکتشافات کے ذریعہ معلوم ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ ان کی رہائش گا ہیں اونچائی وغیرہ میں حسب معمول ہیں جن سے ان کے قد و قامت کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفر ۴۴۳) دوسری روایت ( نمبر ۳۳۲۷) بھی معتکن ہے اور حضرت ابو ہریرہ ہی کی روایت بتائی جاتی ہے اور اس سے پایا جاتا ہے کہ اہل جنت کی صورت و شکل اور قد و قامت کا ذکر ہے۔آپ کو جنت والوں کی حالت کشفا دکھائی گئی ہے۔اس سے مذکورہ بالا اشکال حل ہو جاتا ہے۔تیسری روایت (نمبر ۳۳۲۸) سے یہاں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا جس مشابہت کا ذکر کیا گیا ہے اس میں عورت شریک ہے جو آدم ہی کی ذریت ہے۔چوتھی روایت ( نمبر ۳۳۲۹) میں یہودی سائل کا قول نقل کیا گیا ہے کہ جبریل یہود کا دشمن ہے۔اس تعلق میں كتاب التفسير، سورة البقرة، باب 4 بھی دیکھئے۔اہل جنت کے جس پہلے کھانے کا ذکر اس روایت میں وارد ہوا ہے، اس کی حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔یہ ایک مکاشفہ ہے جو ظاہر پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔سنے والے صحابی نے اپنے عقل و فہم سے قیاس کیا ہے جو ضروری نہیں درست ہو جیسا کہ سابقہ روایت میں حضرت ابو ہریرکا کا بیان ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں قدوقامت ساٹھ ہاتھ تھا۔پانچویں روایت ( نمبر ۳۳۳۰) بھی اسرائیلیات میں سے ہے جس کے راوی حضرت ابو ہریرہ ہیں اور مکن ہے کہ جب بنی اسرائیل بیابان میں تھے تو جنگل کے پرند چرند کا حاصل کردہ گوشت ذخیرے میں رکھتے جس سے اس میں سڑاند پیدا ہو جاتی تھی اور اسی سے گوشت ذخیرہ کرنے کا طریق شروع ہوا ہے۔اس روایت کی تشریح حديث مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةٌ۔سے ہوتی ہے۔حوا علیہا السلام کی جس خیانت کا ذکر اس روایت میں وارد ہوا ہے، اس سے مراد درخت کا ممنوعہ پھل ہے جس کے کھانے کی ترغیب انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو دی جیسا کہ توریت کا بیان ہے۔(دیکھئے پیدائش باب۳) قرآن مجید میں اس کا ذکر نہیں۔فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ چھٹی روایت ( نمبر (۳۳۳) میں عورت کی طبعی کمزوری کا ذکر تمثیلاً کیا گیا ہے۔خُلِقَتْ مِنْ ضِلَع کا محاورہ اس طرح کا ہے جس طرح خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ (الأنبياء: ۳۸) يا مِنْ صَلْصَالٍ (الحجر: ۳۴،۲۹،۲۷) (الرحمن (۱۵) یا مِنْ نَّارٍ (الأعراف: ۱۳) (الحجر: ۲۸) (ص:۷۷) کا صحیح مسلم، كتاب العلم، باب من سن سنة حسنة أو سيئة ومن دعا الى هدى أو ضلالة)