صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 171 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 171

حيح البخاري - جلد ٢ 121 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء وہ پہلے تھے۔} قرآن مجید میں اَزَل اور استَزل دونوں طرح وارد ہوا ہے۔فرماتا ہے : إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمَعَن * إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا (آل عمران: ۱۵۶) {ترجمه حضرت خليفة المسیح الرابع : یقینا تم میں سے وہ لوگ جو اُس دن پھر گئے جس دن دو گروہ متصادم ہوئے۔یقینا شیطان نے انہیں پھسلا دیا بعض ایسے اعمال کی وجہ سے جو وہ بجا لائے۔} امام ابن حجر نے اس تعلق میں لکھا ہے کہ ابو عبیدہ نے ازلی کی تفسیر استزل سے کی ہے نہ کہ ابو العالیہ نے۔یہ غلطی ابوذر کا تب صحیح بخاری سے ہوئی ہے۔اصل نسخے میں تھا وَقَالَ غَيْرُهُ۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۴۱ ) لفظ يَتَسَنه سے آیت فَانْظُرُ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهُ (البقرة: ۲۶۰) کی طرف اشارہ ہے اور لَمْ يَتَسَنَّهُ کے معنی ہیں لَمْ يَتَغَيَّرُ یعنی تیرے کھانے اور پینے کی چیزیں باسی نہیں ہوئیں۔بغیر تبدیلی کے ویسی ہی ہیں جیسی پہلے تھیں۔اسن کے معنی مُتَغَيِّر - فرماتا ہے : فِيْهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَّاءٍ غَيْرِ السِن (محمد: ۱۶) جنت میں ایسے پانی کے دریا ہیں جو رنگ و بو اور مزے میں تبدیل نہیں ہونے والے۔بشر کی پیدائش کے تعلق میں آیت وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ (الحجر:۲۹) میں حَمَا مَّسْنُون کے معنی ہیں ایسا گارا جس کی شکل تبدیل ہو چکی ہو۔بعض علماء نے امام بخاری پر اعتراض کیا ہے کہ انہوں نے مذکورہ بالا الفاظ کی شرح بلا ضرورت کی ہے، جسے امام ابن حجر نے رڈ کیا اور بتایا ہے کہ دراصل ان کا مقصود روایت و درایت کی رو سے قرآن مجید کے معانی الفاظ کا ضبط ہے۔کتاب کا حجم بڑھانا مقصود نہیں جیسا کہ خیال کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۴۱) آیت وَطَفِقَا يَخْصِفَان عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ (الأعراف: ۲۳) (طه:۱۲۲) میں يَخْصِفَان کے معنی ہیں درختوں کے پتوں سے کپڑا بنایا۔پتے آپس میں جوڑے اور انہیں نا نکا۔یہ تفسیر ابو عبیدہ کی ہے۔عرب کہتے ہیں: خَصَفْتُ النَّعْلَ- میں نے جوتی گانٹھی۔اور سورۃ الاعراف میں فرمایا: فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَنُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُرِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوَاتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَكُمَا رَبَّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخَالِدِينَ (الأعراف: (۲۱) شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا کہ تمہارے رب نے اس درخت سے صرف اسی لئے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ کی زندگی پانے والے نہ ہو جاؤ۔لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا ورِيَ عَنْهُمَا۔یہ وسوسہ اندازی اس لئے کی تا کہ جو کچھ ان کے تنگ میں سے پوشیدہ ہے، وہ ان پر ظاہر کر دے۔اس آیت میں لفظ سواۃ کنا یہ ہے اندام نہانی ہے۔یہ تفسیر بھی ابو عبیدہ کی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۴۲) بدی کے شعور و احساس میں ہی انسان کی ترقی یا تباہی کا راز ہے۔احساس کے بعد ہی وہ اصلاح کی توفیق پاتا ہے اور اگر احساس نہ ہو تو اصلاح کی امید بھی نہیں ہو سکتی۔وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلى حِينٍ : حنین سے مراد مطلق وقت ہے۔یہ لفظ عربی زبان میں قیامت تک کی مدت پر بھی اطلاق پاتا ہے۔یہ قول بھی ابوعبیدہ کا ہے۔اسی طرح انہوں نے قبیلہ کے معنی جِيْلُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالشَّيَاطِينِ کئے ہیں۔یعنی جن وانس میں سے ان لوگوں کا ٹولہ جو شیطان خصلت ہیں۔