صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 9
صحيح البخاری جلد ٦ ۵۹- كتاب بدء الخلق اس جگہ خدا تعالیٰ نے روح کا نام کلمہ رکھا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ در حقیقت تمام ارواح کلمات اللہ ہی ہیں جو ایک لا يُدْرَک بھید کے طور پر جس کی تہہ تک انسان کی عقل نہیں پہنچ سکتی روحیں بن گئی ہیں۔اس بناء پر اس آیت کا مضمون بھی ہے: وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ۔اور چونکہ یہ سٹر ربوبیت ہے۔اس لئے کسی کی مجال نہیں کہ اس سے بڑھ کر کچھ بول سکے کہ کلمات اللہ ہی بحکم و باذن ربی لباس روح کا پہن لیتے ہیں اور ان میں وہ تمام طاقتیں اور قوتیں اور خاصیتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو روحوں میں پائی جاتی ہیں اور پھر چونکہ ارواح طیبہ فنافی اللہ ہونے کی حالت میں اپنے تمام قومی چھوڑ دیتی ہیں اور اطاعت الہی میں فانی ہو جاتی ہیں۔تو گویا پھر وہ روح کی حالت سے باہر آکر کلمۃ اللہ ہی بن جاتی ہیں۔جیسا کہ ابتداء میں وہ کلمتہ اللہ تھیں۔سو کلمتہ اللہ کے نام سے ان پاک روحوں کو یاد کرنا ان کے اعلیٰ درجہ کے کمال کی طرف اشارہ ہے۔سو انہیں نور کا لباس ملتا ہے اور اعمالِ صالحہ کی طاقت سے ان کا خدایتعالی کی طرف رفع ہوتا ہے اور ہمارے ظاہر بین علما ء اپنے محمد ود خیالات کی وجہ سے کلمات طیبہ سے مراد محض عقائد یا اذکار و اشغال رکھتے ہیں اور اعمال صالحہ سے مراد بھی اذکار و خیرات وغیرہ ہیں تو گویا وہ اس تاویل سے علت و معلول کو ایک کر دیتے ہیں۔اگر چہ کلمات طیبہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں۔لیکن عارفوں کے لئے یہ بطنی معنے ہیں جن پر قرآن کریم کے دقیق اشارات مشتمل ہیں۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم- روحانی خزائن جلد ۳ صفحه۳۳۳-۳۳۴) اور آیت وَهُوَ بِكُلّ خَلْقٍ عَلِيمٍ (یس (۸۰) کے تعلق میں اپنے ذاتی مشاہدات بھی بیان فرمائے ہیں۔دیکھئے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۸ تا ۱۵۱ وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ كَتَبَ کے معنی ہیں قَدَّرَ۔ذِکر سے مراد لوحِ محفوظ لی گئی ہے۔فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۴۷) لفظ شیء کا ماخذ فعل شَاءَ يَشَاءُ مَشِيئَةً ہے یعنی چا ہنا، ارادہ کرنا۔شی" کے معنی ہیں وہ بات جسے چاہا گیا یا جس کا ارادہ کیا گیا ہو۔یہ وہ تقدیریں (اندازے) ہیں جنہیں قرآن مجید میں لفظ اطوار سے تعبیر کیا گیا ہے۔الذکر سے مراد قرآنِ مجید ہے جس میں بَدَءُ الْخَلْق اور اس سے متعلقہ امور کا ذکر موجود ہے۔فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْءِ الخَلْق : روایت نمبر ۳۱۹۲ میں حضرت عمر کے قول کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو عیسی بن موسیٰ نجار بخاری سے بسند رقبہ بن مصقله مردی ہے۔صحیح بخاری میں ان کی صرف یہی روایت ہے اور اس کے راوی صرف وہی نہیں بلکہ ابو نعیم نے بھی اسے بسند علی بن حسن بن شقیق، ابو حمزہ سے روایت کیا ہے مگر یہ سند کمزور ہے۔اس روایت میں تفصیل نہیں۔صحیح بخاری کتاب القدر باب میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے