صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 170 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 170

صحيح البخاری جلد ٦ 16⭑ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء گئے ، ابوالعالیہ کے نزدیک ان کی یہ دعا ہے : قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الخسِرِينَ ) (الأعراف: ۲۴) دونوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہماری پردہ پوشی فرماتے ہوئے ہم سے درگزر نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو یقیناً ہم نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔مذکورہ بالا آیت میں کلمات سے اس دعا کا غالبا الفاظ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرة: ۳۸) سے استدلال ہو سکتا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت اسی طرح جاری ہے کہ وہ تو بہ، دعاؤں اور اعمال صالحہ بجالانے سے اپنے بندے کو مغفرت و رحمت سے نوازتا ہے۔علامہ طبری نے ابوالعالیہ کا حولہ بالا قول صحیح سند سے نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه (۴۴) کلمات سے دعائیہ کلمات کے علاوہ بعض اوامر و نواہی بھی مراد ہو سکتے ہیں۔صرف تو بہ واستغفار سے متعلق دعائیہ کلمات پر حصر کرنا جب تک قرینہ قویہ نہ ہو، درست نہیں۔سورۃ الاعراف کی مذکورہ بالا دعا کے بعد یہ آیت ہے: قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلى حِينِ (الأعراف: ۲۵) فرمایا: تم یہاں سے دوسری جگہ چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے اس زمین میں تھکا نہ ہے اور کچھ مدت تک فائدہ اُٹھانا۔یہ صورتِ حال جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے، متقاضی ہے کہ کوئی ضابطہ بھی انہیں دیا گیا ہو جو امن کی حالت برقرار رکھنے والا ہو۔جس کے بغیر نہ استقرار مکن ہے اور نہ استفادہ۔اس لئے کلمات میں دعا کے ماسوا بعض دیگر ہدایات بھی ضرور شامل ہیں۔بعض علماء نے ابو العالیہ کے قول سے متعلق اعتراض اٹھا کر یہ جواب دیا ہے کہ حکم اهبطوا پہلے صادر ہوا تھا اور دعائیہ کلمات بعد میں سکھائے گئے اور یہ کہ سورۃ الاعراف کی دونوں آیتوں میں ترتیب نہیں۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۴۴۱) یہ جواب درست نہیں۔بلکہ قرآن کریم کی آیتوں اور سورتوں میں ترتیب ابلغ ہے۔عربی زبان میں ظلم کے معنے ہوتے ہیں کسی کو حق سے محروم کرنا یا اس کا حق چھینا۔انسان کا اپنے نفس پر ظلم وہ معصیت ہے جو قرب الہی اور روحانی ارتقاء سے محروم کر دیتی ہے۔پھر وہ اپنے نفس کو اس سے روکتا ہے اور اپنی کمزوری کے متعلق اس کے اندر شعور اور احساس ندامت پیدا ہوتا ہے جو اس کے لئے باعث اصلاح بن جاتا ہے۔مذکورہ بالا دعا سے ظاہر ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اپنے اسی احساس کی برکت سے بارگاہ الہی میں مقبول ہوئے اور یہ احساس ان بڑے ممیزات میں سے ہے جو انسان کو باقی مخلوق سے ممتاز کرتا ہے۔وَقَالَ فَأَزَلَّهُمَا: أَزَلَّ کے معنی ہیں اسْتَزَلَّهُمَا۔یعنی اپنی باتوں کے ذریعہ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی کو اس درخت سے متعلق پچھلا دیا اور جس حالت میں وہ دونوں تھے، اس سے انہیں نکال دیا۔پوری آیت یہ ہے: فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ (البقرة: ۳۷) (ترجمه حضرت خليفة المسیح الرابع: پس شیطان نے ان دونوں کو اس (درخت) کے معاملہ میں پھیلا دیا پس اس سے انہیں نکال دیا جس میں (جامع البيان في تأويل القرآن للطبري، تفسير سورة البقرة، آیت ۳۷)