صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 169 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 169

صحيح البخاری جلد ٦ 199 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ہے۔سورۃ الجمعہ ( آیت:۲) میں الملك القُدُوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ فرمایا۔دونوں جگہ صفت قدوسیت کو صفت مالکیت کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ تسبیح میں نقص و عیب کی نفی اور تحمید میں صفات حسنہ کا پایا جانا مراد ہے۔عزیز صفت کا اشتقاق عَزَّ سے ہے اور حکیم کا حکم سے۔دونوں کے معنی میں قوت و غلبہ اور پختگی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔عزیز وہ ذات جس کی ہر صفت میں غلبہ وظہور کی شان پائی جاتی ہے۔اس کی صفات ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت اور ملکیت وغیرہ دن بدن نمایاں سے نمایاں تر ہوتی چلی جارہی ہیں۔اسی طرح اس کے کاموں میں پختہ کاری بھی جلوہ گر ہے۔یہ مفہوم ہے وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمِ کا۔مذکورہ بالا دونوں وصف ( تسبیح و تحمید ) ذات الوہیت سے بلحاظ وحدانیت کے مخصوص ہیں اور قدوسیت کا وصف بلحاظ مخلوق کے ہے کہ صفات باری تعالیٰ اس کے لئے مصدر رحمت و برکت ہیں۔جن کا ظہور انسان میں روح القدس کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ مومنوں کی تائید روح القدس سے کرتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی تائید بھی روح القدس سے فرمائی۔دیکھئے البقرة : ۲۵۴٬۸۸، المجادله : ۲۳، الأنفال : ۲۷۔صفت قدوسیت سے متعلق محولہ آیات کے ہم معنی اور بھی آیات ہیں۔جن سے تسبیح تجمید اور تقدیس کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے۔مجاہد نے آیت نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ کا مفہوم نُعَظِمُک سے بیان کیا ہے۔یعنی ہم تیری عظمت کا اظہار کرتے ہیں۔ملائکہ اللہ کے مذکورہ بالا قول سے ذات باری تعالیٰ پر اعتراض مقصود نہیں ہے۔جیسا کہ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ سے عیاں ہے۔بلکہ ایک امر واقعہ کا بیان ہے کہ حضرت آدم کے خلیفہ بنائے جانے سے پایا جاتا ہے کہ زمین میں کشت و خون اور فتنہ و فساد برپا کرنے والے لوگ پیدا ہوں گے جن کی روک تھام اور امن قائم کرنے کی غرض سے خلافت کے قیام کی ضرورت ہے۔امر واقعہ کا بیان اعتراض نہیں کہلاتا۔انبیاء علیہم السلام کی خلافت قائم ہونے سے ہی صفات الہیہ کا خارق عادت ظہور ہوتا اور زمین میں فتنہ وفساد برپا کرنے والوں کا قلع قمع کر دیا جاتا ہے۔تسبیح وتحمید و تقدیس دو قسم کی ہے۔ایک وہ جو ملائکہ کے ذریعے سے اور یہ کائنات عالم میں پوشیدہ ہے اور دوسری وہ جس کا ظہور آدم اور بنی آدم خاص کر انبیاء علیہم السلام کے ذریعے سے۔ملائکہ کی تسبیح وتحمید کا ایک حصہ کا ئنات عالم کے وجود سے ظاہر ہے اور ایک حصہ مخفی جو بنی آدم کی تخلیق اور انبیاء علیہم السلام سے مخصوص تجلی کربانی کے ذریعہ واشگاف ہوتی ہے۔ان دو قسم کی تسبیح وتحمید، ظاہر و پوشیدہ کا ذکر آیت اَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ * وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ) (البقرة : ۳۴) میں فرمایا گیا ہے۔اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے غیب (پوشیدہ باتوں) کا مجھے علم ہے اور جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے، اس کا بھی مجھے علم ہے۔اس آیت سے واضح ہے کہ کائنات عالم کے راز ہائے پوشیدہ کے اظہار کا فرض حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی ذریت کو سونپا گیا ہے جو ملائکہ تنہا نہیں کر سکتے تھے۔وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِهِ كَلِمَاتٍ : جو کلمات حضرت آدم علیہ السلام کو وحی کئے