صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 168 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 168

صحيح البخاری جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ناختم ہونے والا بدلہ حاصل کر سکتا ہے۔لفظ حُسُر سے آیت وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ٥ (العصر :٣٤٢) کی طرف اشارہ ہے۔اس میں زمانہ کو بطور شہادت پیش کر کے انسان کے خسارہ عظیمہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسان جب اپنی عمر میں ایک سال یا ایک ماہ یا ایک دن کی مہلت پاتا ہے تو اس کے ساتھ اسے موقع ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گوناں گوں نعمتوں سے فیضیاب ہو اور اگر وہ مہلت کا ایک دن ضائع کرتا ہے تو وہ ایک دن نہیں بلکہ ہزاروں نعمتوں کا زریں موقع کھو دیتا ہے۔مجاہد نے خُسُو کے معنی ضَلَال کے کئے ہیں یعنی گمراہی، اللہ تعالیٰ سے بعد اور ڈوری۔انسان اگر ارادہ کر لے تو ایک لمحہ میں بھی ایمان کے ذریعہ سے اپنے خالق سے پیوند حاصل کرسکتا ہے۔سورة العصر كى آيت إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِه ( نمبر۴) میں بھی مومن اور اعمال صالحہ بجالانے والے خسارے سے مستی کئے گئے ہیں۔مجاہد کی مذکورہ بالا تفسير إِلَّا مَنْ آمَنَ کے الفاظ سے تفسیر بالمعنی ہے۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۴۴۱) لازب سے آیت فَاسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا أَمْ مَّنْ خَلَقْنَا إِنَّا خَلَقْنَهُمْ مِّنْ طِينٍ لَّازِبٍ۔(الصافات: ۱۲) کی طرف اشارہ ہے۔یعنی پس تو ان سے پوچھ کیا بلحاظ پیدائش ان کو پیدا کرنا مشکل ہے یا ان کے سوا ملاء اعلیٰ کا) جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے۔انہیں ہم نے چپکنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے۔مجاہد نے لا زب کے معنی لازق یعنی چمٹنے والی کئے ہیں اور ابو عبیدہ نے لازم کے۔لازب، لازم اور لازق کا ایک ہی مفہوم ہے۔یعنی وہ مٹی جو اپنے قوام میں چمٹنے والی ہے، رحیم مادر میں قرار پاتی اور اس سے پیوست ہو جاتی ہے۔اس آیت میں جسمانی پیدائش کا ذکر ہے اور روحانی و اخروی پیدائش کا ذکر آیات نَحْنُ قَدَّرُنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِيْنَ۔عَلَى أَنْ تُبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُشِتَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ ، وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الأولى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُونَ ) (الواقعة: ۶۱ ۶۳) میں ہے جس کی طرف لفظ ننشِئُكُم سے اشارہ کیا ہے۔ترجمہ آیات یہ ہے : ہم نے تمہارے درمیان موت مقرر کی ہے اور ہم عاجز نہیں کہ (موت کے بعد ) تمہاری مشابه شکلیں تبدیل کر دیں اور تمہیں ایسی پیدائش میں اُٹھا ئیں جس کا تمہیں علم نہیں اور تمہیں پہلی پیدائش کا تو یقینا علم ہو چکا ہے۔کیا تم اس پیدائش سے نصیحت نہیں حاصل کرتے ؟ لفظ نَشَأَة اور اِنشَاء میں ترتیب و تدریج کا مفہوم پایا جاتا ہے۔محض اُٹھانا مراد نہیں جیسا کہ فرماتا ہے: وَيُنْشِئُ السَّحَابَ الْتِقَالَ (الرعد:۱۳) بو جھل بادل اُٹھاتا ہے جو بخارات کے ذرات سے تدریجا تیار ہوتے ہیں۔نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ سے ملائکہ اللہ کی تصیح و تقدیس و تحمید کا حوالہ دیا گیا ہے جس کا ذکر استخلاف آدم اور خونریزی و مفسدہ پردازی بنی آدم کے تعلق میں بایں الفاظ ہے: وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ (البقرۃ: ۳۱) اور ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری تقدیس کرتے ہیں۔تسبیح کے معنی ہیں نقائص سے پاک ٹھہرانا تحمید کے معنی ہیں خوبیوں کا اظہار اور تقدیس کے معنی ہیں مخلوق کے لئے منبع برکات سمجھنا۔سورۃ الحشر کی آیت ۲۴ میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اَلْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ کی صفات سے کیا گیا ہے کہ وہ ایسا بادشاہ ہے جو مخلوق کے لئے برکت و سلامتی کا موجب