صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 168 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 168

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۶۸ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء ناختم ہونے والا بدلہ حاصل کر سکتا ہے۔ لفظ خُسْر سے آیت وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ (العصر :٣٤٢) کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں زمانہ کو بطور شہادت پیش کر کے انسان کے خسارہ عظیمہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسان جب اپنی عمر میں ایک سال یا ایک ماہ یا ایک دن کی مہلت پاتا ہے تو اس کے ساتھ اسے موقع ملتا ہے کہ اللہ تعالی کی گوناں گوں نعمتوں سے فیضیاب ہو اور اگر وہ مہلت کا ایک دن ضائع کرتا ہے تو وہ ایک دن نہیں بلکہ ہزاروں نعمتوں کا زریں موقع کھو دیتا ہے۔ مجاہد نے خُسُر کے معنی ضلال کے کئے ہیں یعنی گمراہی، اللہ تعالیٰ سے بعد اور ڈوری۔ انسان اگر ارادہ کرلے تو ایک لمحہ میں بھی ایمان کے ذریعہ سے اپنے خالق سے پیوند حاصل کر سکتا ہے۔ سورۃ العصر كى آيت إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (نمبر۴) میں بھی مومن اور اعمال صالحہ بجالانے والے خسارے سے مستثنیٰ کئے گئے ہیں۔ مجاہد کی مذکورہ بالا تفسیر إِلَّا مَنْ آمَنَ کے الفاظ سے تفسیر بالمعنی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۴۱ ) لازب سے آیت فَاسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمْ مَّنْ خَلَقْنَا إِنَّا خَلَقْنَهُمْ مِّنْ طِينٍ لَّازِبٍ ۔ (الصافات: (۱۲) کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی پس تو ان سے پوچھ کیا بلحاظ پیدائش ان کو پیدا کرنا مشکل ہے یا ان کے سوا ملاء اعلیٰ کا) جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے۔ انہیں ہم نے چپکنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مجاہد نے لازب کے معنی لازق یعنی چھٹنے والی کئے ہیں اور ابو عبیدہ نے لازم کے۔ لازب، لازم اور لازق کا ایک ہی مفہوم ہے۔ یعنی وہ مٹی جو اپنے قوام میں چھٹنے والی ہے، رحم مادر میں قرار پاتی اور اس سے پیوست ہو جاتی ہے۔ اس آیت میں جسمانی پیدائش کا ذکر ہے اور روحانی و اخروی پیدائش کا ذکر آیات نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَى أَنْ تُبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنْشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ ۔ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشَاةَ الْأُولَى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُونَ ) (الواقعة: ۶۳۶۱) میں ہے جس کی طرف لفظ تنشِئُكُم سے اشارہ کیا ہے۔ ترجمہ آیات یہ ہے : ہم نے تمہارے درمیان موت مقرر کی ہے اور ہم عاجز نہیں کہ (موت کے بعد ) تمہاری مشابه شکلیں تبدیل کر دیں اور تمہیں ایسی پیدائش میں اُٹھائیں جس کا تمہیں علم نہیں ں اور تمہیں پہلی پیدائش کا تو یقینا علم ہو چکا ہے۔ کیا تم اس اس پیدا پیدائش ک سے نصیحت نہیں حاصل کرتے رتے ؟ ؟ ! لفظ نشاۃ اور إِنْشَاء میں ترتیب و تدریج کا مفہوم پایا جاتا ہے محض اُٹھانا مراد نہیں جیسا کہ فرماتا ہے: وَيُنشِئُ السَّحَابَ الفِقَالَ (الرعد: ١٣) بو جھل بادل اُٹھاتا ہے جو بخارات کے ذرات سے تدریجا تیار ہوتے ہیں۔ ارو نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ سے ملائکہ اللہ کی تسبیح و تقدیس و تحمید کا حوالہ دیا گیا ہے جس کا ذکر استخلاف آدم اور خونریزی و مفسدہ پردازی بنی آدم کے تعلق میں بایں الفاظ ہے: وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ (البقرۃ: ۳۱) اور ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری تقدیس کرتے ہیں۔ تسبیح کے معنی ہیں نقائص سے پاک ٹھہرانا تحمید کے معنی ہیں خوبیوں کا اظہار اور تقدیس کے معنی ہیں مخلوق کے لئے منبع برکات سمجھنا۔ سورۃ الحشر کی آیت ۲۴ میں اللہ تعالیٰ کا ذکر الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ کی صفات سے کیا گیا ہے کہ وہ ایسا بادشاہ ہے جو مخلوق کے لئے برکت و سلامتی کا موجب