صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 167 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 167

حيح البخاری جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء 0 (1) مَخْرَجُ الْبَول وہ نالی جہاں سے پیشاب نکلتا ہے۔(۲) مَخْرَجُ اللَّبَنِ مِنَ الشَّدي چھاتی سے دودھ نکلنے کی نالی۔اخليل كى جمع أحالیل ہے۔دودھ اور منی غدود میں تیار ہو کر نالیوں کے ذریعہ سے نکلتے ہیں۔مذکورہ بالا تفسیر نقل کر کے امام بخاری کا اس پر وہ جرح نہ کرنا جو امام ابن حجر نے کی ہے، قابل تعجب ہے۔سوا اس کے کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ علم تشریح الا بدان کا موجودہ نظریہ مجاہد اور امام موصوف کو معلوم تھا۔جیسا کہ یہ نظریہ بھی کہ کائنات کی ہر شئے شفع (جوڑے) کی صورت میں ہے۔جو اب ثابت شدہ صداقت ہے اور سورۃ الذاریات کی آیت وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ) (الذاریات: ۵۰) میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔امام موصوف نے مجاہد کی مذکورہ بالا تفسیر کے معا بعد اس آیت کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کائناتِ عالم کی ہر شئے جوڑوں کی شکل میں ہے۔حتی کہ ذرات اور ان کی قوت پنہانی، کہرباء وغیرہ بھی ازدواجی صورت میں کام کر رہی ہے۔اس آیت سے ماقبل کی آیت میں آسمان اور زمین جوڑا قرار دیئے گئے ہیں۔فرماتا ہے : وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَهَا بَأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۔وَالْأَرْضَ فَرَشْنَهَا فَنِعْمَ الْمُهِدُونَ ) (الذاریات: ۴۸، ۴۹) اور آسمان کو ہم نے بڑی بڑی طاقتوں کے ساتھ بنایا ہے اور ہم (اس میں ) اور بھی وسعت پیدا کرنے والے ہیں اور زمین کو بچھا دیا ہے۔سو ہم کیا ہی اچھا بچھونا بچھانے والے ہیں۔بچھونے سے اشارہ ہے کہ زمین آسمان کا پانی قبول کرنے کے لئے عورت کی طرح بچھ جاتی ہے اور طرح طرح کی روئیدگیاں پیدا کرتی ہے۔اس کے بعد فرمایا: فَنِعْمَ الْمَهِدُونَ ہم نے اس مضمون کے لئے بہت اچھی تمہید اٹھائی ہے کہ ہمارا پیوند جب تک اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہ ہوگا ہمارے لئے خطرہ ہی ہے۔چنانچہ فَفِرُّوا إِلَى اللهِ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ) (الذاریات: (۵۱) کی آیات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے۔ط وَالْوَتْرُ الله : کائنات عالم میں سے ہر شئے کا جوڑا ہے اور انسان کی ارتقائی تحمیل اللہ تعالی سے پیوند پکڑنے میں ہے اور مماثلت صفات کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ذات یکتا و بے مثل ہے۔انسان اس کا ہمسر نہیں۔وہ خدا نہیں بن سکتا۔گویا اس فقرہ میں اس مشرکانہ خیال کا رڈ کیا گیا ہے جو عیسائیوں وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔کتاب احادیث الانبیاء میں انسانی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے اس کے آغاز اور منتہاء پرداز سے متعلق دونوں آیتوں کا حوالہ برمحل ہے اور اس کے بعد انسان کے ارتقاء کی اعلیٰ اور اسفل جہتوں کا ذکر دو آیتوں کے حوالہ سے کیا گیا ہے۔آیت لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ اور آیت ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ (التين: ۶،۵) مجاہد ني أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ کے معنی أَحْسَنِ خَلْقِ کئے ہیں۔نہایت خوبصورت پیدائش جو صفات باری تعالیٰ کا مظہر اور پیکر حسن کامل ہے اور جب انسان اپنے اس مقام ارفع سے گرتا ہے تو حیوانوں سے بھی نیچے گر جاتا ہے جو اپنی خواہشات پورا کرنے میں طبعی حدود سے تجاوز نہیں کرتے مگر انسان انہیں توڑ دیتا ہے۔یہ تفسیر فریابی نے مجاہد سے نقل کی ہے۔إِلَّا مَن آمَنَ سے انہوں نے آیت إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونِ (التين:۷) کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انتہائی گراوٹ کے بعد بھی انسان ایمان اور عمل صالحہ کے ذریعہ سے اپنے مقام پر بحال ہو کر اپنی محنت کا