صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 166
صحيح البخاری جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء جگہوں کو چھپاتا ہے اور زینت ( کا موجب بھی) ہے اور تقویٰ کا لباس (تو) سب سے بہتر لباس ہے۔یہ (لباس کا حکم ) اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ریاش کے معنے حضرت ابن عباس نے مال کے کئے ہیں جو ابن ابی حاتم سے موصولاً مروی ہیں اور ابو عبیدہ نے اس کے معنی معاش ( سامانِ زندگی ) بھی کئے ہیں۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۴۴۰) جو شئے انسان کے لئے بطور نعمت ہو، اس کے لئے لفظ نزول قرآن مجید میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔جیسے فرمایا: وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ (الحدید: ۲۶) اور فرمایا: قَدْ أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَسُولًا (الطلاق: (۱۲۱) ظاہر ہے لوہا اور رسول آسمان سے نازل نہیں ہوتے۔عنوان باب میں حوالے حضرت آدم اور انبیاء علیہم السلام کی پیدائش اور بعثت کے تعلق میں بطور تمہید ہیں۔الفاظ مَّا تُمُنُونَ سے آیت أَفَرَأَيْتُمُ مَّا تُمْنُونَ ، وَ أَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ (الواقعة: ۶۰٬۵۹) کی طرف اشارہ ہے۔یعنی کیا تم نے غور کیا جو نطفہ ڈالتے ہو، کیا تم اسے پیدا کرتے ہو یا ہم اس کے خالق ہیں۔تُمُنُونَ سے رحم مادر میں نطفہ ڈالنا مراد ہے۔یہ شرح فراء ادیب کی ہے۔منی اور امنى باب فَعَل اور افعل دونوں طرح سے زبان عربی میں آتا ہے۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۴۴۰) عَلَى رَجُعِهِ لَقَادِرٌ - النُّطْفَةُ فِي الْإِحْلِيلِ : اس سے آیت إِنَّهُ عَلَى رَجْعِهِ لَقَادِرٌ (الطارق : 9) کی اس تفسیر کی طرف اشارہ ہے جو مجاہد سے فریابی نے روایت کی ہے کہ اس سے نطفے کا لوٹایا جانا مراد ہے۔امام ابن حجر نے اس تفسیر پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ضمیر (0) کی مرجع ما قبل کی آیات میں انسان ہے، اس لئے (4) سے مراد نطفہ نہیں لیا جاسکتا۔نطفہ جس کی پیدائش کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ پسلیوں اور بیٹھ کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔تحقیق کی رو سے ثابت ہو چکا ہے کہ جنین کا اصل مقام پیدائش جوف بطن میں گردے کے قریب ہے اور بعد میں انڈے نالیوں کے ذریعہ فوطے اور مبیض میں اُترتے ہیں۔اس نالی کو لاطینی زبان میں Inguinal Canal کہتے ہیں۔اس لفظ کے معنی ہی صلب کے ہیں۔یعنی پشت کا عقبی (پچھلا) پنجر جس میں سے ریڑھ کی ہڈی گزرتی ہے۔گردوں اور نرومادہ کے اعضاء تناسل ( خصیہ اور مبیض ) کا اصل محل وقوع جوف بطن کے اس مذکورہ بالا حصے میں ہے اور بَيْنَ الصُّلْبِ والتَّرَآئِبِ (الطارق: (۸) کی ذیل میں شامل ہیں۔مبیض وہ عضو ہے جہاں انڈے بنتے ہیں۔وہ حیوانات جنہیں بزبانِ عربی ذَوَاتُ القُدُيِ (پستان والے) اور انگریزی میں Mammals کہتے ہیں۔ان میں سے بعض کے خصیئے اپنی اصلی جگہ پر ہی برقرار رہتے ہیں۔فوطوں میں نیچے نہیں اترتے۔علاوہ ازیں وہ اعصاب جو اخراج منی کا بصورت مَاءٍ دَافِي محرک ہوتے ہیں، ان کی جائے وقوع بھی صلب و ترائب کے درمیان ہے۔شدید صدمہ غم وغیرہ کی وجہ سے یہ اعصاب بے حرکت ہو جاتے ہیں اور مردمی طاقت محو ہو جاتی ہے۔اس لئے مجاہد کی تفسیر ان معنوں میں درست ہے کہ اللہ تعالیٰ قوت مردمی پیدا اور فنا کرنے پر قادر ہے۔لفظ اخلیل جو مجاہد کی تفسیر میں ہے، اس کا اطلاق دو قسم کی نالیوں پر ہوتا ہے۔