صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 165
صحيح البخاری جلد 4 ۱۶۵ ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء اور گمراہی کی ظلمت سے بچاتا ہے اور وہ روح القدس ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں پر شیطان کا تسلط ہونے نہیں دیتا اور اسی کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے کہ اِن عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ (الحجر: ۴۳) اب دیکھو کہ یہ آیت کیسی صریح طور پر بتلا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کا فرشتہ انسان کی حفاظت کے لئے ہمیشہ اور ہر دم اس کے ساتھ رہتا ہے اور ایک دم بھی اس سے جدا نہیں ہوتا۔۔۔۔پس اس نص قطعی اور یقینی سے ثابت ہے کہ روح القدس یا یوں کہو کہ اندرونی نگہبانی کا فرشتہ ہمیشہ نیک انسان کے ساتھ ایسا ہی رہتا ہے جیسا کہ اس کی بیرونی حفاظت کے لئے رہتا ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۷، ۷۸ ) اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی آیات بینات کے حوالے سے مذکورہ بالا حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔اس تعلق میں دیکھئے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۸ تا ۱۰۲۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ : كَبَد کے معنی شدت خلق حضرت ابن عباس سے مروی ہیں۔ابن عیینہ نے بھی یہی معنے صحیح سند سے روایت کئے ہیں کہ اس میں بچے کی پیدائش کا ذکر ہے جو سخت اور نازک مرحلے میں ہوتی ہے۔مثلاً بچے کو دانت وغیرہ نکالنے کی تکلیف اور دیگر عوارض کا خطرہ ہوتا ہے۔حاکم نے بھی مستدرک میں گید کے یہی معنے کتے ہیں اور ابو عبیدہ نے بھی۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۴) انسان کو روحانی پیدائش میں بھی نہایت کڑی منزلیں طے کرنی پڑتی ہیں۔سورۃ البلد کی آیت لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ (البلد : ۵) میں سیاق کلام کے اعتبار سے اسی سنت الہی کا ذکر ہے۔جیسا کہ آیت وَأَنْتَ حِلَّ بِهَذَا الْبَلَدِ (البلد :(۳) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا ہے کہ مکہ کے شہر میں اس وقت تیرے متعلق اہل شہر کی طرف سے اجازت دی گئی ہے کہ تیری جان و عزت پر جو چاہے حملہ کرے تو اس میں غیر محفوظ ہے۔تیری حریت دعزت کا پاس نہیں بحالیکہ یہ بلد حرام ہے جو اس میں داخل ہو وہ پناہ میں آ جاتا ہے۔اس کی جان و مال اور آبرو وعزت امن میں ہوتی ہے۔حتی کے معنی ہیں ہدف، نشانہ تیراندازی۔فرمایا: وہ شہر جہاں تیری یہ حالت ہے، تیری سچائی کی کون شہادت دے گا؟ اس سیاق کلام میں سید کے مذکورہ بالا معنی واضح ہیں۔(مزید تشریح کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر جلد ۸ صفحه ۵۸۱ تا ۶۱۵) وَرِيَاشًا - اَلْمَالُ۔۔۔۔: سورۃ الاعراف کی آیت ۲۷ کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے: بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا ط عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْاتِكُمْ وَرِيْشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى * ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمُ يَذَّكَّرُونَ (الأعراف: ۲۷) اے آدم کی اولاد! ہم نے تمہارے لئے ایک ایسالباس پیدا کیا ہے جو تمہاری چھپانے والی