صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 164
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۶۴ ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً : صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں یہ الگ باب ہے۔ جبکہ اس نسخہ میں الفاظ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً کا عطف ما سبق پر ہے۔ پوری آیت یہ ہے : وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ * قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ) (البقرة: (۳۱) یعنی (اے انسان تو اس وقت کو بھی یاد کر ) جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ (اس پر ) انہوں نے کہا کہ کیا تو اس میں (ایسے شخص بھی ) پیدا کرے گا جو اس میں فساد کریں گے اور خون بہائیں گے اور ہم ( تو وہ ہیں جو ) تیری حمد کے ساتھ (ساتھ ) تیری تسبیح بھی کرتے ہیں اور تجھ میں سب بڑائیوں کے پائے جانے کا اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا: میں یقینا وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ملائکۃ اللہ کے تعلق میں کتاب بدء الخلق باب ۶ کی تشریح دیکھئے جہاں مفصل بتایا جا چکا ہے کہ وہ خالق و مخلوق کے درمیان بطور واسطہ ہیں اور سورہ بقرہ کی آیت ۳۱ میں قَالَ اور قَالُوا لفظ قَول وقیل کے عام اور متداول مفہوم میں نہیں۔ بحالت مکاشفہ ورڈ یا بعض وقت الفاظ نہیں ہوتے ۔ بلکہ معانی کا انتقال ذہنی یا قلبی ہی گفت و شنید کا قائم مقام ہوتا ہے جو ہمارا تجربہ شدہ امر واقعہ ہے۔ اسی قسم کے مکاشفہ وغیرہ کے ذریعہ سے ملائکۃ اللہ پر ارادہ الہیہ کا انکشاف ہوا۔ جس کے تعلق میں انہیں اپنا فرض منصبی ادا کرنا تھا۔ کیونکہ ہر ذرہ کائنات کے وہ محافظ ہیں اور انہیں علم ہے کہ ہرے شئے اپنے خالق کی لسان حال سے تسبیح کرتی ہے۔ اس لئے جب ملائکہ اللہ کو مکاشفہ الہیہ سے معلوم ہوا کہ اس زمین میں ایک ایسا وجود پیدا کیا جانے والا ہے جو اس میں خلیفہ اللہ ہوگا اور جس کے وجود کے ساتھ کشت و خون اور فتنہ و فساد کا ہونا لازمی ہے تو اس حالت مشہودہ پر یہ سوال پیدا ہونا بھی لازمی ہے۔ جیسا کہ ہمارے دلوں میں میں بھی بالفعل پیدا ہوتا ہے کہ فاسق فاجر اور قاتل و ظالم لوگوں کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی جو خالق کی سبوحیت کے لئے بدنما داغ ہیں ۔ یہ سوال طبعی ہے اور امر واقعہ سے تعلق رکھتا ہے جس کا اظہار قَالَ وَ قَالُوا کے اسلوب میں کیا گیا ہے۔ میں کیا گیا ہے۔ حقائق دقیقہ واضح کرنے کی غرض - دقیقہ واضح کرنے کی غرض سے یہ پیرا یہ بیان اختیار کیا جاتا ہے ۔ ملائکۃ اللہ کا قول وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ بھی حقیقت پر مبنی ہے۔ مخلوقات ارضی وسماوی میں سے ہر شئے مخون ہے حسن واحسان ربانی کا، جو پوشیدگی میں محفوظ و مقفل ہے اور علم الہی جس کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ملائکہ ان بے بہا مخازن کے محافظ ہیں ۔ اس حقیقت کے پیش نظر مذکورہ بالا آیت کے بعد آیت اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَا عَلَيْهَا حَافِظٌ (الطارق : ۵) کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ ہر نفس پر ایک نہ ایک محافظ مقرر ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس آیت کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔ جیسا کہ انسان کے ظاہر وجود کے لئے فرشتہ مقرر ہے جو اس سے جدا نہیں ہوتا ویسا ہی اس کے باطن کی حفاظت کے لئے بھی مقرر ہے جو باطن کو شیطان سے روکتا ہے