صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 164 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 164

صحيح البخاري - جلد ٦۔۱۶۴ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً : صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں یہ الگ باب ہے۔جبکہ اس نسخہ میں الفاظ وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَة۔۔۔۔کا عطف ما سبق پر ہے۔پوری آیت یہ ہے : وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ) (البقرۃ: ۳۱) یعنی (اے انسان تو اس وقت کو بھی یاد کر ) جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔(اس پر ) انہوں نے کہا کہ کیا تو اس میں (ایسے شخص بھی ) پیدا کرے گا جو اس میں فساد کریں گے اور خون بہائیں گے اور ہم ( تو وہ ہیں جو ) تیری حمد کے ساتھ ساتھ ) تیری تسبیح بھی کرتے ہیں اور تجھ میں سب بڑائیوں کے پائے جانے کا اقرار کرتے ہیں۔فرمایا: میں یقیناوہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ملائکۃ اللہ سے تعلق میں کتاب بدء الخلق باب کی تشریح دیکھئے جہاں مفصل بتایا جا چکا ہے کہ وہ خالق و مخلوق کے درمیان بطور واسطہ ہیں اور سورہ بقرہ کی آیت ۳۱ میں قَالَ اور قَالُوا لفظ قَول وقبل کے عام اور متداول مفہوم میں نہیں۔بحالت مکاشفہ ورڈ یا بعض وقت الفاظ نہیں ہوتے۔بلکہ معانی کا انتقال ذہنی یا قلبی ہی گفت و شنید کا قائم مقام ہوتا ہے جو ہمارا تجربہ شدہ امر واقعہ ہے۔اس قسم کے مکاشفہ وغیرہ کے ذریعہ سے ملائکتہ اللہ پر ارادہ الہیہ کا انکشاف ہوا۔جس کے تعلق میں انہیں اپنا فرض منصبی ادا کرنا تھا۔کیونکہ ہر ذرہ کائنات کے وہ محافظ ہیں اور انہیں علم ہے کہ ہر شئے اپنے خالق کی لسان حال سے تسبیح کرتی ہے۔اس لئے جب ملائکہ اللہ کومکاشفہ الہیہ سے معلوم ہوا کہ اس زمین میں ایک ایسا وجود پیدا کیا جانے والا ہے جو اس میں خلیفتہ اللہ ہوگا اور جس کے وجود کے ساتھ کشت و خون اور فتنہ وفساد کا ہونا لازمی ہے تو اس حالت مشہودہ پر یہ سوال پیدا ہونا بھی لازمی ہے۔جیسا کہ ہمارے دلوں میں بھی بالفعل پیدا ہوتا ہے کہ فاسق فاجر اور قاتل وظالم لوگوں کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی جو خالق کی سبوحیت کے لئے بدنما داغ ہیں۔یہ سوال طبعی ہے اور امر واقعہ سے تعلق رکھتا ہے جس کا اظہار قَالَ وَ قَالُوا کے اسلوب میں کیا گیا ہے۔حقائق دقیقہ واضح کرنے کی غرض سے یہ پیرا یہ بیان اختیار کیا جاتا ہے۔ملائکتہ اللہ کا قول وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَک بھی حقیقت پر مبنی ہے۔مخلوقات ارضی و سماوی میں سے ہر شئے مخزن ہے حسن و احسانِ ربانی کا ، جو پوشیدگی میں محفوظ و مقفل ہے اور علم الہی جس کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ملائکہ ان بے بہا مخازن کے محافظ ہیں۔اس حقیقت کے پیش نظر مذکورہ بالا آیت کے بعد آیت إِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَا عَلَيْهَا حَافِظٌ (الطارق : ۵) کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ ہر نفس پر ایک نہ ایک محافظ مقرر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔وو جیسا کہ انسان کے ظاہر وجود کے لئے فرشتہ مقرر ہے جو اس سے جدا نہیں ہوتا ویسا ہی اس کے باطن کی حفاظت کے لئے بھی مقرر ہے جو باطن کو شیطان سے روکتا ہے